ریاض :امریکہ کی جانب سے تعلقات میں سردمہری سامنے ا ینے پر سعودی عرب نے ترکی کے ساتھ اختلافات ختم کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ 2018ء میں ترکی میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اور اس کے بعد سعودی عرب میں ترک اشیاء کے بائیکاٹ کی عوامی مہم بھی چلائی گئی تھی۔ خبررساں ادارو ں کے مطابق سعودی قیادت اختلافات میں کمی لانے کے لیے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔ واشنگٹن میں عرب گلف اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ سے وابستہ کرسٹین دیوان کا کہنا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسی بظاہر ایران کی جانب جھکاو ی اور سعودی عرب سے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کی دکھائی دیتی ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب خطے میں تنازعات کے حل کے لیے خود کو ایک شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کا خواہش مند ہے۔ قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد ریاض حکومت کا اگلا ہدف انقرہ حکومت کے ساتھ کشیدگی کم کرنا ہے۔ اس سلسلے میں خیر سگالی کے طور پر سعودی عرب نے کئی قیدیوں کو رہا بھی کیا ہے۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ریاض حکومت نے لچک لانے کی پالیسی اختیار کرلی ہے۔ واضح رہے کہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ریاض حکومت کو بہت ڈھیل دے رکھی ہے، لیکن وہ سعودی عرب کو جوابدہ بنائیں گے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن سعودی حکومت کے ساتھ عملی طور پردرمیانہ رویہ ہی اختیار کریں گے کیونکہ حالات جیسے بھی ہوں، سعودی عرب خطے میں امریکہ کا بڑا اتحادی ملک ہے۔ بائیڈن ریاض حکومت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بلیک میل کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں انسانی حقوق کی خاتون کارکن کو بھی رہا کر دیا، جس نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دلوانے کے حق میں مہم چلائی تھی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں