’’سلام‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹرفہد السلطان کا کہنا ہے کہ 2015ء میں تاسیس پانے والے اس منصوبے کا مقصد سعودی عرب سے متعلق ذہنی تصور کی حقیقت کا مطالعہ اور جائزہ ہے۔

علاوہ ازیں باہمی بقاء ، رواداری اور تہذیبی رابطے کے اْن مظاہر کو اجاگر کرنا ہے جنہیں سعودی عرب میں یقینی بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ پروگرام ویژن 2030 کے ضمن میں ہیں۔السلطان نے باور کرایا کہ “سلام” درحقیقت سعودیوں اور دیگر معاشروں کے افراد کے بیچ بات چیت ، کھلے رابطے اور مثبت مفاہمت کے لیے ایک با مقصد پلیٹ فارم ہے۔

اس کے ذریعے تمام افراد کے درمیان مشترکہ انسانی اور ثقافتی اقدار کا تعارف حاصل کیا جا سکے گا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر فہد السلطان نے واضح کیا کہ ’’سلام منصوبہ دنیا کی اقوام کے سامنے سعودی عرب کی حقیقی تصویر پیش کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت محققین کے ہاتھوں تحریر کیے جانے والے 85 مکتوبات کا بھی اجرا عمل میں آئے گا۔یہ منصوبہ علمی اور عملی اقدامات کے ذریعے تہذیبی رابطے کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے”۔