ریاض: سعودی عرب میں ایک غیر ملکی شہریت رکھنے والی خاتون بھکاری کو ایک سکیورٹی چیک پوسٹ سے گذرتے ہوئے اس وقت حراست میں لیا گیا جب اس کے پاس ہزاروں سعودی ریال موجود تھے۔ پولیس نے خطیر رقم قبضے میں لینے کے بعد ملزمہ سے تفتیش شروع کردی ہے۔ سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بھکارن کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے پاس سعودی کرنسی میں خطیر رقم موجود ہے۔ سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ سیکیورٹی حکام نے سرحدی حفاظتی نظام کی خلاف ورزی کرنے والی ایک جبوتی خاتون کو گرفتار کیا ہے جس نے بھیک مانگ کر بڑی رقم جمع کر رکھی تھی۔وزارت داخلہ نے وضاحت کی کہ خاتون اس کے پاس 132,000 ریال کی رقم پائی گئی ، جو اس نے بھیک مانگ کر جمع کی تھی۔ اس کے خلاف قانونی اقدامات کیے گئے ہیں اور اسے متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔نیز وزارت داخلہ نے کہا کہ یہ کیس اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بھکاریوں کو بھیک مانگنے پر بھاری رقم ملتی ہے۔ یہ رحجان عام ہے خاص طور پر رمضان کے مہینے میں بھکاریوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔کچھ لوگ اس مقدس مہینے میں پیسے کمانے کے لیے اس کا استحصال بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقوں سے اور دھوکہ دہی کے طریقوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے بوڑھوں اور معذوروں کے لیے گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ بچوں کو عوامی مقامات اور دکانوں پر بھیک مانگنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ پبلک سکیورٹی نے اعلان کیا ہے کہ مجاز سکیورٹی حکام ہر بھیک مانگنے والے شخص کو گرفتار کریں گے اور ملزم کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بریگیڈیئر جنرل سمیع الشویریخ نے کہا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔بھیک مانگنے، اس کی ترغیب دینے اور اس سے متفق ہونے پر ایک سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے۔