سرکاری کاغذات پرمولانا ابوالکلام آزاد اسٹڈیم کا نام غائبٹی ایم سی کی جانب سے نام کی جگہ صرف ’کوسہ اسٹیڈیم ‘ لکھے جانے پر قائد نونسل سید علی اشرف نے مئیر و کمشنر سے کی شکایت
تھانے (آفتاب شیخ)
گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ ممبرا میں واقع اسٹیڈیم کا نام نہ لکھتے ہوئے سرکاری و مونسپل کے دستاویزات پر صرف ’ کوسہ اسٹیڈیم ‘ لکھا جارہا ہے جس سے یہ خدشہ ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں اس کا نام تبدیل ہوکر رہ جائے گا اسی موضوع پر پہلے کرتے ہوئے این سی پی کے سینئر لیڈر و مہاراشٹر اقلیتی کمیشن کے سابق رکن قائد نونسل سید علی اشرف نے تھانے مونسپل کمشنر و مئیر سے اسکی تحریری شکایت کرتے ہوئے افسران کی غلطیوں کو درست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسٹیڈیم کا نام ’مولانا ابوالکلام آزاد اسٹیڈیم‘ ہے تو اسے ہر جگہ کوسہ اسٹیڈیم لکھ کر اس کا نام کیوں بگاڑا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق جب سے بی جے پی سرکار آئی ہے تب سے ہر شہر ، اسٹیشن ، بازار و اضلاع کے نام تبدیل کئے جارہے ہیں خاص کر یوپی میں یہ کام بڑی تیزی سے مایاوتی کے دور حکومت میں او ر اب یوگی سرکار کے دور میں ہورہا ہے ۔جب کہ تاریخٰ ناموں کی تبدیلی پر شہریوں کو یا کسی خاص فرقہ کو خاصی تکلیف تو ہوتی ہے ۔ لیکن ممبرا میں الگ ہی معاملہ ہے یہاں تو کچھ شہری اور کچھ سرکاری طور پر ناموں کو بگاڑنے کا خاصہ چلن چل رہا ہے ۔ مثلاً جس سڑک کا نام شہید راہ مدینہ مثنیٰ میاں ہے اسے لوگ وہاں کے ایک اسپتال کے نام سے دھابولکر روڈ پکارتے ہیں جس گلی کا نام مجاہد آزادی حضرت مولانا حسرت موہانی روڈ ہے اسکی جگہ وہاں کی ایک قدیم عمارت قادر پیلس اور معروف شاعر قیصر الجعفری سڑک کو الماس کالونی، مولانا ابوالکلام آزاد روڈ کو چاند نگر اور اسی طرح کوسہ میں بنے اسٹیڈیم جس کے ناموں کی تختی کا اجراء شرد پوار نے کیا تھا مولانا ابوالکلام آزاد اسٹیڈیم کے بجائے کوسہ اسٹیڈیم، مرحوم یاسین سرمے سڑک کو ایم ایم ولی روڈ کہتے ہیں۔ لیکن ان میں حد تو تب ہوگئی جب خود ٹی ایم سی کی جانب سے ٹیکہ لگانے کے بعد ملنے والی سرٹیفکیٹ پر بھی کوسہ اسٹیڈیم اور ٹی ایم سی یا الیکشن کمیشن کی جانب سے ملنے والی پریس نوٹ پر بھی کوسہ اسٹیڈیم لکھا جانے لگا ہے تو اس بات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے این سی پی کے سینئر لیڈر سید علی اشرف نے ٹی ایم سی کو اپنی شکایت دور کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کمشنر وپن شرما، مئیر نریش مہسکے اور اپوزیشن لیڈر اشرف پٹھان کو دیا۔ سید علی اشرف نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ کوسہ کے عقب میں بننے والے اسٹیڈیم کا نام مولانا ابوالکلام آزاد رکھا جائے اس کے لئے ہم لوگ اپنے دور کارپوریٹر میں کافی محنت و جہد کیے جس کے بعد یہ نام تھانے مونسپل کارپوریشن سے منظور ہوا اور اسی نام کا ایک پتھر یہاں اسٹیڈیم کے باہر نصب کیا گیا جس کی نقاب کشائی خود این سی پی سپریمو شرد پوار نے کی اور پھر اس کا نام یہی مولانا ابوالکلام آزاد اسٹیڈیم ہی ہو گیا ۔ لیکن ادھر کچھ دنوں سے یہ دیکھا جارہا ہے کہ ہر پیپر پر اسٹیڈیم کا نام کوسہ اسٹیڈیم لکھا جانے لگا ہے یہاں تک کہ عوام و خواص ، افسران و کارپوریٹر حضرات بھی اسے مولانا آزاد اسٹیڈیم نہ کہہ کر کوسہ اسٹیڈیم ہی پکارنے لگے ہیں ۔ تو یہ ایک بہت بڑا یا تو المیہ ہے یا تو سازش ہے اس بات کو اجاگر یہاں کے ایک سینئر صحافی انوارالحق نے سوشل میڈیا پر کیا جس کے بعد میں بھی حرکت میں آیا کہ اس پر کچھ کرنا ہوگا اور میں نے اسکی شکایت کمشنر و مئیر اور اپوزیشن لیڈر سے کی اور عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی توجہ دیں جس کا جو نام ہے اسی نام سے پکاریں اپنی جانب سے کوئی نیا نام کسی چیز کو نہ دیں ۔ سید علی اشرف نے بتایا کہ ایک طرف پنویل میں تعمیر ہونے والے ائیر پورٹ کے نام کو لیکر ہزاروں کولی سماج کے افراد سڑک پر اتر کر احتجاج کر رہے ہیں اپنے لیڈر کے نام پر اس ائیر پورٹ کا نام رکھنے کے لئے سرکار سے لوہا لینے کو تیار ہیں تو وہیں دوسری جانب ہمارے قائد کا نام ملنے کے باوجود ہم خود اسے بگاڑ رہے ہیں اور بھلا رہے ہیں تو یہ افسوسناک بات ہے انھوں نے کہا کہ آج الہ آباد کا نام ، مغل سرائے کا نام ، اکبر پور کا نام بدلا جارہا ہے تو ہمیں دلی تکلیف ہورہی ہے اور یہاں تو ہم خود ہی مولانا ابوالکلام آزاد اسٹیڈیم کا نام بدل کر اسکے کوسہ اسٹیڈیم پکار رہے ہیں اگرچہ یہی کام کوئی اور کرتا تو کیا ہوتا ہم کیانہ کرتے ؟ لہذا کارپوریشن اپنا کام کرے عوام بھی صحیح ناموں کا استعمال کریں اسطرح کی اپیل شہریں سے سید علی اشرف نے کی ۔