سراج الدین داعش ریکروٹمنٹ معاملہ : خصوصی عدالت میں این آئی اے استغاثہ کا دعوی کھوکھلا ثابت ہوا

0 2

ممبئی ۔30؍ نومبر ( پریس ریلیز ) داعش سے تعلق اور اس میں نو جوانوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار، گلبرگہ کے رہنے والے اعلی تعلیم یافتہ انڈین آئل کار پوریشن جے پور میں اعلی عہدے پر فائز سراج الدین کے مقدمہ کی سماعت جے پور کی خصوصی عدالت میں تیزی سے چل رہی ہے اوراستغاثہ کی جا نب سے گواہوں کو پیش کیا جا رہا ہے آج یہاں عدالت میں سماعت کے دوران گواہ نمبر 27؍فورنسک لیباریٹری کے ہیڈ آفیسر جناب جھا صاحب کو پیش کیا گیا ،جس کی گواہی سے استغاثہ کے تمام دعوی بے بنیاد اور جھوٹے ثابت ہو ئے اور صاف ظاہر ہو گیا کہ ملزم کو منصوبہ بند طریقے پر پھنسیا گیا ہے ۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی نمائندہ تنظیم جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ سراج الدین کے اوپر جتنے بھی الزامات ہیں وہ سب الکٹرانک میڈیا کی بنیاد پر طے کئے گئے ہیں جن میں واٹس ایپ ،فیس بک ،ٹیلی گرام میسینجر،یا یاہو میسنجر سے گفتگو کو بنیاد بنایا گیا ہے ،آج استغاثہ کی جا نب سے عدالت میں پیش کردہ فورنسک لیبا ریٹری کے بڑے آفیسر جھا صاحب جن کی گواہی پر ہی استغاثہ پورہ کیس ٹکا ہوا ہے نے بھری عدالت میں بحث و جرح کے دوران یہ اعتراف کیا کہ اس کیس میں تمام قانونی دفعات کو نظر انداز کیا گیا ہے، میں نے فون نمبراور آئی ایم آئی کی جانچ پڑتال نہیں کی ہے ،نہ صرف یہ بلکہ ڈاٹا کے ذریعہ جو ڈی ،وی ،ڈی اور سی،ڈی بنائی گئی ہے اس کے نمبرات بھی ریکارڈ سے میل نہیں کھا رہے ہیں جو کہ ا این آئی اے استغاثہ کے مو قف کے خلاف ہے ،اس طرح یہ اہم گواہی ملزم سراج الدین کو بے گناہ ثابت کرنے میں کار گر ثابت ہو گی ۔ واضح رہے کہ دسمبر 2015 میں انڈین آئل کارپوریشن کے اعلی عہدیدارکو داعش کا ریکرو ٹر قرار دیتے ہوئے پہلے اے ٹی ایس نے اور اس کے بعد این آئی اے نے فرد جرم عائد کیا تھا ۔ اس پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ مسلم نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس سے جوڑنے کے لئے سوشل میڈیا پر گروپ بنا رکھا تھا نیز یہ کہ وہ راجستھان میں آئی ایس آئی ایس کا نیٹ ورک بنانے کی کوشش کررہا تھا۔یو اے پی اے اور تعزیرات ہند کی کئی سنگین دفعات کا سامنا کر رہے سراج الدین کا مقدمہ کئی مہینوں سے التواء کا شکار رہا ہمارے وکلاء کی کو ششوں سے اس مقدمہ کو روز بروز کی بنیاد پر چلانے کی ہدایت دی گئی ہے اس کے باوجود پابندی سے نہیں چلا یا جا رہا ہے۔جمعیۃ علماء کی جانب سے اس مقدمے کی پیر وی ایڈووکیٹ تہور خان پٹھان سکریٹری لیگل سیل جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی نگرانی میں ایڈوکیٹ وشنو شرما ( جے پور ) کررہے ہیں، جو مقدمہ کو نہ صرف برق رفتاری سے چلانے میں کا میاب ہو رہے ہیں بلکہ این آئی اے استغاثہ کے جھوٹے دعووں کی قلعی بتدریج کھلتی جارہی ہے ۔