سدھو نے پٹیالہ کورٹ میں کی خودسپردگی، جیل بھیجے گئے

پٹیالہ، 20 مئی (یو این آئی) سپریم کورٹ کی جانب سے 1988 کے روڈ ریج کیس میں ایک سال کی سخت قید کی سزا سنائے جانے کے ایک دن بعد کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو نے دیر شام پٹیالہ کی عدالت میں خودسپردگی کر دی جہاں سے وہ سینٹرل جیل بھیج دیئے گئے۔سدھو کے وکیل اور پارٹی لیڈر نوتیج سنگھ چیمہ سمیت کچھ لیڈروں کے ساتھ میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پہنچ کر خودسپردگی کی۔ پولیس نے انہیں فوراً اپنی تحویل میں لے لیا۔

مسٹر چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو جگر کے مسائل ہیں۔ اس پر سدھو کو کوشلیا دیوی اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ اس کے بعد پولیس اسے پٹیالہ سینٹرل جیل لے گئی۔ سدھو کی اہلیہ نوجوت کور سدھو جمعرات کی رات ہی پٹیالہ میں واقع رہائش گاہ پر پہنچی تھیں، جب کہ سدھو آج یہاں پہنچے۔ ان کے ساتھ پارٹی کے کچھ سابق ایم ایل اے اور حامی بھی سدھو کی رہائش گاہ پر اپنی حمایت کا اظہار کرنے پہنچے۔ اس میں ان کی اہلیہ اور سابق وزیر نوجوت کور سدھو، سابق وزیر اشونی سیکھری، سابق ایم ایل اے نجار سنگھ منشاہیا سمیت کئی رہنما موجود تھے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد سدھو نے صحت کا حوالہ دیتے ہوئے دوبارہ اسی عدالت سے رجوع کیا اور جیل جانے سے پہلے ایک ہفتے کا وقت مانگا، لیکن عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے یہ حکم دیا کہ اس سے انصاف کے عمل میں عام لوگ متاثر ہوں گے اور لوگوں کے اعتماد کو دھچکا لگے گا۔ سدھو کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بنچ کے سامنے وقت دینے کی عرضی سے متعلق پیش ہوئے۔ مسٹر سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ ان کا مؤکل جلد ہی عدالت کے سامنے خودسپردگی کرے گا لیکن طبی معاملات کو طے کرنے کے لیے چند ہفتوں کا وقت درکار ہے۔ اس بنچ نے کہا کہ سدھو کی سزا ایک خصوصی بنچ نے سنائی ہے، اس لیے انہیں چیف جسٹس کے سامنے توسیع کے لیے عرضی دائر کرنی چاہیے، جو ایک نئی بنچ تشکیل دے کر اس پر غور کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ لیکن سدھو کو یہاں سے بھی کوئی راحت نہیں ملی۔اس دوران پنجاب حکومت نے سدھو کی سیکورٹی بھی واپس لے لی۔