نئی دہلی۔ دہلی ہریانہ کی سنگھو سرحد پر سخت سکیورٹی تنصیبات کے درمیان تین زراعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج اتوار کے روز67ویں دن میں داخل ہوگیا۔ کسانوں او رحکومت کے درمیان اگلے مرحلے کی با ت چیت 2فبروری کو مقرر ہے۔

غازی پور سرحد پر کسانوں کا احتجاج جیسے ہی65ویں دن میں داخل ہوگیا سکیورٹی میں اضافہ کردیاگیا کیونکہ پچھلے دو تین دنوں میں احتجاج کے مقام پر پہنچے والے کسانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیاہے۔

غازی پور سرحد پر احتجاج کررہے ایک کسان شیام نے اے این ائی کو بتایاکہ”حکومت اپنا نشانہ ہدف تبدیل کررہی ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ وہ ایک فیصلہ نہیں لے رہی ہے۔ حکومت کو مذکورہ قوانین واپس لینا چاہئے۔یہ کسانوں اور حکومت دونوں کے لئے بہتر ہے“۔

ایک اور کسان رام بیر سنگھ نے کہاکہ ”ہمیں مذکورہ تجویز قبول نہیں ہے۔ ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہم نے کچھ برا نہیں کیاہے او رہم چاہتے ہیں نئے زراعی قوانین واپس لئے جائیں“۔ مظاہرین کو مخالف حکومت نعرے لگاتے ہوئے اور زراعی قوانین واپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے دیکھا گیاہے۔

بھوک ہڑتال
انہیں زنجیر ی بھوک ہڑتال کرتے ہوئے بھی دیکھا گیاہے۔

کسانوں کے ایک لیڈر تیجندر سنگھ ویرک نے کہاکہ ”ڈسمبر22سال2020سے ہم زنجیری بھوک ہڑتال کررہے ہیں جہااں پر 11کسان 24گھنٹوں کے لئے ہر روز بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اگر منشاء صحیح ہے تو حکومت سے بات چیت کے لئے کسان تیار ہیں۔ ہم ہمیشہ با ت چیت کے لئے تیار ہیں“۔

عوام کی حفاظت اور پبلک ایمرجنسی کو روبمعل لاتے ہوئے مرکزی وزرا ت داخلہ نے تینوں سرحدوں اوراس سے متصل علاقوں میں 29جنوری کی صبح11بجے سے 31جنوری کی رات 11بجے تک کے لئے انٹرنٹ خدمات مسدود کردئے ہیں۔

ہریانہ حکومت نے بھی اپنے17اضلاعوں میں 31جنوری کی شام 5بجے تک انٹرنٹ خدمات کو مسدود کردیاتھا۔اس کے علاوہ دہلی پولیس نے بھی قومی شاہراہ24کے راستے کو بند کردیاہے۔

ہفتہ کے روز کل جماعتی اجلاس کے دوران وزیراعظم نریند رمودی نے اس بات کو دہرایا کہ 22جنوری کے روز کسانوں کو حکومت کی جانب سے دی گئی تجویز اب بھی ویسی ہے اور تمامسیایس پارٹیو ں کے قائدین سے اس پر بات کی جانی چائے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تو مظاہرین سے محض ایک فون کال کی دوری پر ہیں۔ کسانوں کے ساتھ 22جنوری کے روز11دورکی بات چیت کے دوران حکومت نے دیڑھ سال تک کے لئے قانون پر روک لگادی ہے اور اسبات کی بھی تجویز پیش کی ہے کہ ان قوانین پر تبادلہ خیال کے لئے ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دیں گے۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر نکالی گئی کسانوں کے احتجاجی ٹریکٹر ریالی کے دوران درالحکومت دہلی کے مختلف مقامات پر پولیس او رکسانوں کے درمیان جھڑپ کے واقعات بھی رونما ہوئی تھیں۔ کسانوں نے لال قلعہ پر چڑھائی کرتے ہوئے وہاں پر کسان یونین کے علاوہ سکھوں کا مذہبی جھنڈا’نشان صاحب‘ بھی لہرایاتھا۔

مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ تین نئے زراعی قوانین کے خلاف پچھلے دو ماہ سے زائد عرصہ سے کسان دہلی کی مختلف سرحدوں پر احتجاج کررہے ہیں


اپنی رائے یہاں لکھیں