سخت سردی کے باوجود جامعہ ملیہ اسلامیہ اور شاہین باغ میں احتجاج جاری : مظاہرہ کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی

1

تشدد کے خلاف قومی انسانی حقوق کمیشن کو ایک؍لاکھ ۸۰؍ہزار سے زائد دستخطی میمورنڈم دیا گیا ، جہدمسلسل کاعزم،اسٹوڈنٹ نے مظاہرہ کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی

نئی دہلی۔۳۱؍دسمبر: دہلی میں سخت سردی کے درمیان سورج بھلے ہی نہ نکلا ہو لیکن متنازعہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)این پی آر اور این آرسی کی مخالفت کررہے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ اوراوکھلاکی عوام روز کی طرح سڑکوں پر دھرنا دے رہے ہیں۔جس میں سیاسی لیڈران کی بھی شرکت ہورہی ہے۔ملک بھرمیں احتجاج جاری ہے ،پولیس کی لاٹھی،انتظامیہ کی سختی اوپیروپیگنڈوں کے باوجودمنزل مقصودکی تلاش میںعزم سفرمستحکم ہے۔ مظاہرین ایک طرف شاہین باغ کے مین روڈپرچوبیس گھنٹے بیٹھے ہیں جن میں زیادہ تعدادخواتین کی ہے،دوسری طرف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہرپرعزم مظاہرین ڈٹے ہیں کہ جب تک اس متنازعہ قانون کوسرکارواپس نہیں لیتی ،ہم ہٹ نہیں سکتے،اتنی سخت سردی میں بھی ان کے پائے استقامت میں کمی نہیں آئی اورآئین وملک کی پاسداری کے عزم ونعرے کے ساتھ برادران وطن کے ساتھ مل کرڈٹے ہوئے ہیں۔

نکڑناٹک اورکارٹونوں کے ذریعے انوکھے احتجاج جاری ہیں،وہیں سیاسی لیڈران ،طلبہ وعوام پورے خلوص کے ساتھ ملک کے آئین کے تحفظ میں لگے ہیں۔ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شہریت مخالف قانون کے خلاف احتجاج کا ۱۹؍واں دن تھا۔ آج بھی بڑی تعداد میں طلبہ وطالبات اور مقامی عوام نے زبردست مظاہرہ کیا او رحکومت مخالف نعرے لگائے۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں ہم لے کر رہیں گے آزادی۔ ہم لڑکر لیں گے آزادی کے نعرے لگائیں۔ آج جامعہ ملیہ کے سینکڑوں طالب علموں نےیونیورسٹی کے باہر شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی۔

بتا دیں کہ ملک کے کئی حصوں میں ہوئے پرتشدد مظاہرے میں قریب 22 لوگوں کی موت ہوئی ہے، ان میں سے 19 اموات اترپردیش میںہی ہوئی جبکہ دو اموات کرناٹک میں ہوئی تھی۔منگل کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینکڑوں طلباء نے یونیورسٹی کے باہر دوپہرکو نماز پڑھی۔بتا دیں کہ سی اے اے۔این آرسی کے خلاف مسلسل اس علاقے میں احتجاج ہو رہا ہے۔دہلی کے شاہین باغ علاقے میں گزشتہ پندرہ دن سے مظاہرین پرامن مظاہرہ کر رہے ہیں، یہاں خواتین بھی بڑی تعداد میں شامل ہو رہی ہیں۔بتا دیں کہ سی اے اے۔این آرسی کے خلاف احتجاج کا آغاز دہلی کی جامعہ یونیورسٹی سے ہی ہواتھا، ہزاروں کی تعداد میں طلبہ نے جامعہ کے باہر مظاہرہ کیا تھا، جس نے بعد میں پر تشدد شکل لے لی تھی۔جامعہ کے طالب علموں کی جانب سے پولیس پر طالب علموں کے ساتھ زیادتی کا الزام لگا تھا اور لائبریری میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کی بات کہی تھی۔

اس سے قبل پیر کو گزشتہ ۱۵؍دسمبر کو کیمپس میں دہلی پولس کی بربریت اور ظلم وستم کی تحقیقات کو لے کر ایک لاکھ ۸۰؍ہزار دستخطوں کے ساتھ قومی انسانی حقوق کمیشن کو میمورنڈم دیاگیا، یہ دستخظی مہم چینج ڈاٹ او آر جی نامی ویب سائٹ کے ذریعے شروع کی گئی تھی جس میں تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار طلبہ وطالبات اور شہریوں نے جامعہ تشدد کی مخالفت میں دستخط کیے تھے۔

بشکریہ مممبئی اردو نیوز