اٹاوہ:20جولائی(یواین آئی) اترپردیش میں آئند سال ہونے والے اسمبلی انتخاب میں اقلیتوں خاص کر مسلم ووٹوں کے منتشر ہونے کے شبہ سے تویش میں مبتلا سماج وادی پارٹی(ایس پی) لیڈر و سابق رکن پارلیمنٹ تیج پرتاپ یادو نے بی جے پی کا نام لئے بغیر طنز کسا کہ سب کو پتہ ہے کہ اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین(اے آئی ایم آئی ایم) کس کے اشارے پر چلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہار، بنگال میں اویسی کی پارٹی کے حشر کسی سے چھپا نہیں ہے۔ اترپردیش کا ووٹر بہت ہی ہوشیار ہے اور وہ کسی کے بھی جھانسے میں آنے والا نہیں ہے۔سیفئی میں بلاک پرمکھ کی حلف بردار کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت میں مسٹر یادو نے کہا کہ یوپی کا ووٹر کافی ہوشیار ہے وہ اپنے ووٹ کی اہمیت اچھی طرح سے جانتا ہے جب اسمبلی انتخاب ہونگے تو وہ اپنا ووٹ خراب کرنے کا کوئی کام نہیں کرے گا۔

ایس پی لیڈر نے کہا کہ فی الحال اسمبلی انتخابات کا ابھی کوئی اعلان نہیں ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بھی لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے بے چین ہیں۔ مقامی لوگوں سے بات چیت کی بنید پر ایسا کہا جاسکتا ہے کہ لوگ برسراقتدار بی جے پی کے خلاف بڑے پیمانے پر کھل کر سامنے آئے ہیں اور جب ووٹ کی باری آئے گی تو بی جے پی کو ووٹ کے ذریعہ چوٹ دینے کا کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے جھانسے میں آکر جن لوگوں نے اس کے حق میں ووٹنگ کیا ہے وہ لوگ آج پچھتا رہے ہیں اور اب اس موقع کےمنتظر ہیں کہ آنے والے دنوں میں جب ووٹ ڈالنے کا موقع ملے گا تو وہ اس بات کو دکھا دیں گے کہ ووٹ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔