نئی دہلی: دہلی کے منگول پوری علاقہ میں ایک 24 سالہ نوجوان کا چاقو مار کر قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے اس معاملہ میں چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان اور مقتول کے مختلف مذاہب سے وابستہ ہونے کے سبب اس معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقتول کا نام رنکو شرما ہے اور زاہد، مہتاب، دانش اور اسلام کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

این ڈی ڈی وی میں شائع رپورٹ کے مطابق، پولیس نے کہا کہ رنکو اپنے گھر کے نزدیک ہی دوست کی سالگرہ کی پارٹی میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ وہاں پر جھگڑا ہو گیا اور اس کو چاقو مار کر قتل کر دیا گیا۔ تاہم، اہل خانہ کا الزام ہے کہ رنکو کا قتل اس لیے کیا گیا چونکہ وہ علاقہ میں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگاتا تھا۔ نیز، 5 اگست 2020 کو رنکو نے رام مندر تعمیر ہونے کے اعلان کی خوشی میں رام کی ریلی نکالی تھی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسی لیے ملزمان رنکو سے رنجش رکھتے تھے!

مہلوک رنکو شرما کی ماں رادھا شرما نے کہا ’’30-40 لوگ آئے۔ لاٹھی ڈنڈے اور چاقو ساتھ لیے۔ میرے بیٹے کو بہت مارا…جب مارا تھا، تب بھی وہ جے شری رام بول رہا تھا۔‘‘ وہیں، والد اجے شرما نے کہا، ’’میرا بیٹا جنم دن کی پارٹی سے واپس آیا۔ تبھی پیچھے سے حملہ آور آ گیے اور حملہ کر دیا۔ میرا بیٹا بجرنگ دل سے وابستہ تھا، اس لیے ہمیں بار بار دھمکی دی جاتی تھی۔ بولتے تھے چھوڑیں گے نہیں۔‘‘

بی جے پی لیڈران نے اس معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینا شروع کر دیا ہے۔ بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے اس معاملہ کو ہندو-مسلم بنا کر پیش کیا ہے۔ وہیں دہلی بی جے پی آدیش گپتا نے بھی ٹوئٹ کر کے ایک فرقہ کو نشانہ بنایا ہے۔ وہیں، دہلی کی برسر اقتدار جماعت عام آدمی پارٹی نے معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

وہیں، پولیس نے معاملہ میں کسی بھی فرقہ وارانہ زاویہ کی تردید کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بابو نام کے نوجوان کی منگول پوری علاقہ میں سالگرہ کی پارٹی تھی۔ جس میں رنکو شرما کے ساتھ ملزمان بھی آیے ہویے تھے۔ سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ تبھی وہاں آپس میں کسی بات کو لے کر بحث ہو گئی اور پھر جھگڑے کی نوبت آ گئی۔ بعد میں رنکو اپنے گھر جاتا ہے، تبھی پیچھے سے ملزمان بھی آ جاتے اور رنکو پر حملہ بول دیتے ہیں۔ جانچ میں اب تک یہی انکشاف ہوا ہے۔

پولیس نے کہا کہ معاملہ کی جانچ کی جا رہی ہے۔ معاملہ کے فرقہ وارانہ ہونے جیسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ ان لوگوں نے آس میں مل کر روہنی میں ایک ریستران بھی کھولا تھا، جس میں ان کو نقصان بھی ہوا تھا اور ان میں تنازعہ بھی چل رہا تھا۔