کیرانہ کی سابق رکن پارلیمنٹ تبسم حسن اور ان کے رکن اسمبلی بیٹے ناہید حسن کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ اس کارروائی میں 40 لوگوں کو ایک گینگ بتا کر رکن اسمبلی ناہید حسن کو اس کا لیڈر کہا گیا ہے۔ یہ کارروائی شاملی ضلع مجسٹریٹ نے کی ہے اور اس کی رپورٹ کیرالہ کوتوالی کے ذریعہ بھیجی گئی تھی۔ اس کارروائی سے کیرانہ میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل تیز ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ ناہید حسن حال ہی میں جیل سے ضمانت پر باہر آئے ہیں۔ وہ مرحوم رکن پارلیمنٹ منور حسن کے بیٹے ہیں۔ ان کی ماں تبسم حسن کے خلاف بھی گینگسٹر ایکٹ میں کارروائی کی گئی ہے۔ ناہید حسن نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی مقدمے ہیں اور اس کا جواب بھی سیاسی طریقے سے ہی دیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ شاملی ضلع میں یہ کارروائی کیرانہ اسمبلی سے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ناہید حسن اور ان کی ماں سابق رکن پارلیمنٹ تبسم حسن کے علاوہ 40 دیگر لوگوں پر بھی کی گئی ہے۔ یہ سبھی اس فیملی کے قریبی بتائے جاتے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ناہید حسن پر پہلے سے ہی درجن بھر مقدمے درج ہیں اور انتظامیہ کی گینگسٹر کارروائی میں ان لوگوں کا سماج میں ڈر اور خوف ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ کوتوالی انچارج انسپکٹر پریم ویر سنگھ رانا کی جانب سے درج اس معاملے میں رکن اسمبلی ناہید حسن کو گینگ کی قیادت کرنے والوں میں بتایا گیا ہے۔

اس وقت انتظامیہ کا شکنجہ ناہید حسن پر کستا ہوا نظر آ رہا ہے۔ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ اس بار ضلع مجسٹریٹ شاملی کی منظوری کے بعد رکن اسمبلی اور ان کی ماں تبسم حسن پر گینگسٹر کی یہ کارروائی ہوئی ہے۔ یہ معاملہ اترپردیش انسداد گروہ بندی سماج مخالف کارروائی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ درج رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گینگ لیڈر ناہید حسن کے ساتھ تبسم حسن سمیت 40 لوگ ہیں۔ گینگ چارٹ میں درج کیا گیا ہے کہ رکن اسمبلی اپنی گینگ کے اراکین کے ساتھ مل کر جرائم کرتے ہیں اور غیر قانونی طور سے فزیکل اور معاشی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان لوگوں سے سماج کے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے اور ساتھ ہی بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص ان کے خلاف رپورٹ لکھوانے یا گواہی دینے کی ہمت نہیں کر پاتا ہے۔

سی او (سرکل افسر) جتیندر کمار سنگھ کے مطابق یہ کارروائی 6 فروری کو کی گئی ہے۔ پولس کے مطابق جس گینگ چارٹ کا لیڈر رکن اسمبلی ناہید حسن کو بنایا گیا ہے، ان میں سابق رکن پارلیمنٹ تبسم حسن کے علاوہ محمود، ارشد، نوشاد، عرفان، قیوم، عارف، فرمان، صابر، راجہ عرف تعصیم، مونس، انعام، مہتاب عرف بیرو، منور، فرمان، زلفان، عرفان، الیاس، عباس عرف واسی، مبارک، غفران، مرسلین، پرویز، ہارون، افسرون، عارف، تسلیم، عمران، ناظر، منگتا، ہاشم، سالم، مومن، راشد عرف بھورا، انتظار، چودھری دانش عرف کالا، احسان، شارق حیدر علی کے نام شامل ہیں۔

اس گینگسٹر کارروائی کے بعد رکن اسمبلی ناہید حسن نے کہا کہ یہ سیاسی رنجش کے تحت کی گئی کارروائی ہے۔ حکومت کی ہدایت پر ان کے اور ان کی فیملی کے اوپر انتظامیہ کے ذریعہ فرضی مقدمے درج ہوتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں قانون کے مطابق جواب دیا جائے گا۔ پہلے بھی سماجوادی پارٹی رکن اسمبلی پر درج مقدمات کے سبب انھیں جنوری 2020 میں جیل بھیجا گیا تھا۔ بعد ازاں انھیں فروری 2020 میں ضمانت مل گئی تھی۔