• 425
    Shares

نئی دہلی ، 02 اکتوبر (یو این آئی) ملک میں سابقہ ​​ٹیکس نظام کو ختم کرنے والے انکم ٹیکس ترمیمی قانون کو آج صدر کی منظوری کے ساتھ نوٹیفائی کر دیا گیا جس کی شرائط کے تحت کمپنیوں کو ہندوستان یا کسی بھی بیرون ملک میں کسی بھی قانونی مقدمے میں ثالثی، صلح یا ثالثی غیرمتبدل طور پر واپس لینا یا بند کرنا ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق قانون میں کمپنیوں کے لیے نو شرائط مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے چھ شرائط یہ بتاتی ہیں کہ متعلقہ کمپنیاں ہندوستان یا بیرون ملک کسی بھی قانونی چارہ جوئی ، ثالثی ، صلح یا ثالثی کو غیر متبدل طور پر واپس لے لیں گی، بند کر دیں گی اور اس پر نہ آگے بڑھیں گی۔ ملک میں ان کے تمام معاونین کے خلاف قرقی (اٹیچمنٹ)ضبطی کو نافذ کرنے یا آگے بڑھانے کے لیے کارروائی کو واپس لینا پڑے گا۔ وہیں دو شرائط مستقبل میں ممکنہ مقدموں سے نمٹنے کے لیے ایک ڈھانچہ سے متعلق ہیں، ساتھ ہی آخری شرط عوامی اعلان ہے۔

متعلقہ کمپنی کو یہ مطلع کرنے کے لیے ایک پبلک نوٹس یا پریس ریلیز جاری کرنا ہوگی کہ کوئی بھی دعویٰ اب وجود میں نہیں ہے اور نہ ہی کیے گئے کسی وعدے کے خلاف نقصان کی تلافی کا کوئی وجود ہے۔ یہ ضابطہ کسی بھی محکمہ، ایجنسی ، پبلک سیکٹر کی کمپنی یا ملک میں کسی بھی دوسرےیونٹ کے طور پر وضاحت کرتے ہیں جس کا براہ راست یا بالواسطہ طور پر ہندوستان یا کسی دوسرے ملک یا علاقےسے باہر ہے۔

سابقہ تاریخ سے ٹیکس سسٹم کو ختم کرنے کے لیے نافذ قانون کے پورے میکانزم کے لیے انکم ٹیکس ضابطہ 1962 میں ایک نئی شق ’جے‘ اور ضاطہ ’11 یو ای اور 11 یو ایف‘ کو شامل کیا گیا ہے۔ شق کا عنوانی ’ہندوستان میں واقع جائداد کا 28 مئی 2012 سے پہلے بلاواسطہ منتقلی‘ ہے۔ ساتھ ہی 2021 مالیاتی ضابطے کی جانب سے کیے گئے ترمیم کو مؤثر بنانے کے لیے چار فاررم اور ایک ضمیمہ بھی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔