سابرمتی آشرم میں ڈونالڈ ٹرمپ نے ’باپو‘ کا ذکر تک نہیں کیا

0 0

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سابرمتی آشرم پہنچ کر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا، لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اس موقع پر انھوں نے باپو کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ سابرمتی آشرم پہنچے ٹرمپ اور ان کی بیوی میلانیا کا استقبال ہندوستانی پی ایم نریندر مودی نے شال پیش کرتے ہوئے کیا۔ اس کے بعد پی ایم مودی انھیں آشرم کے اندر لے گئے اور وہاں کی تاریخی باتیں انھیں بتائیں۔ ٹرمپ نے آشرم میں رکھا باپو کا چرکھا بھی چلایا جس میں ان کی مدد وہاں موجود کچھ خواتین نے کی۔

آشرم سے نکلتے وقت امریکی صدر ٹرمپ نے وزیٹر بک میں اپنا پیغام لکھا۔ ٹرمپ نے اس میں وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میرے شاندار دوست پی ایم نریندر مودی کے لیے، اس بے جوڑ دورے کے لیے شکریہ۔‘‘ وزیٹر بک میں ٹرمپ کے ذریعہ لکھے گئے اس پیغام میں صرف مودی کا شکریہ ادا کرنا کچھ لوگوں کو حیران کر گیا، کیونکہ لوگ امیدیں لگائے ہوئے تھے کہ وہ مہاتما گاندھی کے تعلق سے کوئی بات دنیا کے سامنے رکھیں گے۔

امریکی صدر کے پیغام کو لے کر اب سوشل میڈیا پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ سابرمتی آشرم تو گئے، لیکن گاندھی جی کے بارے میں نہ کچھ کہا اور نہ ہی لکھا۔ انھیں مہاتما گاندھی کے بارے میں کچھ تذکرہ کرنا چاہیے تھا۔ کانگریس لیڈر منیش تیواری نے بھی وزیٹر بک میں ٹرمپ کے ذریعہ مہاتما گاندھی کے بارے میں ایک بھی لفظ نہیں لکھنے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ کیا ڈونالڈ ٹرمپ جانتے ہیں کہ موہن داس کرم چند گاندھی کون تھے؟

سابق مرکزی وزیر منیش تیواری نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ اس نوٹ کا ایک اسنیپ شاٹ ہے جسے کسی نے بھیجا ہے۔ یہ واقعی میں سابرمتی آشرم پر ڈونالڈ ٹرمپ کا نوٹ ہے۔ عظیم مہاتما کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ کیا وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ موہن داس کرم چند گاندھی کون تھے؟‘‘


دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سابق امریکی صدر براک اوباما کا بھی وہ پرانا پیغام وائرل ہونا شروع ہو گیا ہے جب انھوں نے سابرمتی آشرم کا دورہ کیا تھا اور وزیٹر بک میں چند سطریں لکھی تھیں۔ کانگریس لیڈر منیش تیواری نے اوباما کے پیغام کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’اور یہ عظیم مہاتما گاندھی کے بارے میں راج گھاٹ یا سابرمتی آشرم کے وزیٹر بک میں براک اوباما نے لکھا تھا۔‘‘


واضح ہے کہ ٹرمپ نے جو کچھ وزیٹر بک میں لکھا ہے وہ اوباما کے پیغام سے بالکل مختلف ہے۔ اوباما نے سال 2010 میں سابرمتی آشرم کے اپنے دورہ کے دوران وزیٹر بک میں لکھا تھا کہ ’’مارٹن لوتھر کنگ جونیر نے کہا تھا کہ مہاتما گاندھی ہندوستان میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ گاندھی جی کی زندگی سے جڑے خاص مقامات کو دیکھنے کا موقع پا کر میں امید اور ترغیب سے بھر گیا ہوں۔ وہ صرف ہندوستان کے نہیں بلکہ پوری دنیا کے ہیرو ہیں۔‘‘

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو