زیر جامہ اتارنے پر مجبور کرنے کا معاملہ، متاثرہ لڑکیوں کو دوبارہ نیٹ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت

504

ترواننت پورم: نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے ان لڑکیوں کو نیٹ امتحان میں دوبارہ بیٹھنے کیا اجازت دے دی ہے جنہوں نے شکایت کی تھی کہ امتحان کے مرکز پر انہیں زیر جامہ اتارنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکیوں کو 4 ستمبر کو دوبارہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت فراہم کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ کیرالہ کے کولم میں نیٹ امتحان کے مرکز پر لڑکیوں کو جبراً زیر جامہ اتارنے پر مجبور کیا گیا تھا، جس کے بعد والدین نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرا دی تھی۔ ہنگامہ آرائی کے بعد کیرالہ پولیس نے 7 افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے فوری بعد انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

لڑکیوں کے والدین نے اس ’غیر انسانی‘ حرکت پر احتجاج درج کراتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا ان کے بچوں پر ذہنی طور پر اثر پڑا ہے۔ نتیجتاً نیٹ سے وابستہ افسران کی تین رکنی ٹیم نے اس واقعہ کی تفتیش کی اور لڑکیوں کو ہونے والی ذہنی تکلیف پر رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کی بنیاد پر افسران نے متاثرہ امیدواروں کے لئے پھر سے امتحان منعقد کرنے کا فیصلہ لیا۔