یہ تو اب کافی حد تک لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری یا دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے، ذیابیطس اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر یہ عادت آپ کی مجموعی صحت کے لیے جتنی تباہ کن ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔درحقیقت طبی ماہرین تو اسے صحت کے لیے بہت زیادہ چینی اور سیگریٹ کے استعمال جتنا ہی خطرناک قرار دیتے ہیں
خاص طور پر درمیانی عمر میں زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا متعدد طبی مسائل کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

اگر آپ زیادہ وقت بیٹھ یا لیٹ کر گزارتے ہیں تو جانیے کہ یہ عادت آپ کو کن امراض کا شکار بناسکتی ہے۔

قبض کا اکثر سامنا
جب آپ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تو آنتوں کی سرگرمیاں سست ہوجاتی ہیں، جبکہ جسمانی طور پر متحرک رہنا ان سرگرمیوں کو بڑھاتا ہے، جس سے قبض کا امکان کم ہوتا ہے۔

صحت مند مسلز بھی فضلے کو نظام ہاضمہ سے آسانی سے گزرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، خاص طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ ورزش یا جسمانی سرگرمیوں جیسے تیز چہل قدمی کو اپنا معمول بنالیں۔

جوڑوں کا اکڑنا یا سخت ہونا
تکلیف دہ اور مشکل سے حرکت کرنے والے جوڑ کئی بار ورم سے جڑے مسائل جیسے جوڑوں کے امراض کا اشارہ ہوتے ہیں۔۔
مگر جوڑوں کا سخت یا اکڑ جانا اس وقت بھی ہوتا ہے جب ان کو زیادہ استعمال نہ کیا جائے، تو دن بھر میں ان کو استعمال کریں تاکہ وہ تکلیف کا باعث نہ کرسکیں۔

سانس لینے میں مشکلات
جیسے بازو کے مسلز استعمال نہ ہونے پر کمزور ہوجاتے ہیں، اسی طرح چلنے پھرنے کے دوران سانس لینے اور چھوڑنے میں مدد فراہم کرنے والے مسلز کی مضبوطی بھی کم ہوجاتی ہے جب ان کو اکثر استعمال نہ کیا جائے۔

جسمانی طور پر جتنے کم سرگرم ہوں گے، سانس کے مسائل کا امکان اتنا زیادہ ہوگا، یہاں تکہ روزمرہ کے آسان کاموں میں بھی۔

چڑچڑا پن
زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا صرف جسمانی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے نتیجے میں ذہنی بے چینی اور ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

آسان ورزشیں جیسے چہل قدمی، سائیکل چلانا یا جاگنگ سے بھی مزاج کو خوشگوار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے اور خوداعتمادی بھی بڑھتی ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ اور سستی
سستی اور تھکاوٹ کا احساس اکثر ہوتا ہے؟ تو یہ بھی اسی عادت کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

جسمانی طور پر سرگرم رہنا آکسیجن اور غذائی اجزا کو ٹشوز تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، اگر آپ اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں تو جسم کو مطلوبہ مقدار میں ایندھن نہیں مل پاتا جو اسے مختلف کاموں کے لیے درکار ہوتا ہے۔
میٹابولزم کی رفتار سست ہونا
جو لوگ جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں ان کا میٹابولزم بھی زیادہ تیز ہوتا ہے، چاہے وہ بیٹھے بیٹھے ہاتھوں پیروں کو حرکت دینا ہی کیوں نہ ہو۔

جسمانی طور پر جتنے زیادہ متحرک ہوں گے اتنی زیادہ کیلوریز آپ جلاسکیں گے۔

نیند کا ناقص معیار
رات کی نیند کے بعد بھی تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے ؟ تو بہتر ہے کہ دن میں زیادہ وقت جسمانی طور پر سرگرم رہ کر گزارنا عادت بنالیں۔

جب آپ ورزش کو معمول بنالیتے ہیں تو رات کو نیند بھی فوری آتی ہے اور وہ بہت گہری ہوتی ہے۔

چیزوں کو بھولنا
ورزش کو معمول بنانا ایسے کیمیکلز کو زیادہ بناتا ہے جو دماغ میں خون کی شریانوں کی پروڈکشن بڑھاتی ہے۔

دماغ کو جتنا زیادہ خون ملے گا، اتنا ہی وہ بہتر طریقے سے سوچنے، یاد رکھنے اور فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔

بلڈ پریشر میں اضافہ
اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزار کر آپ امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھا رہے ہوتے ہیں، اس کی جزوی وجہ ہائی بلڈ پریشر میں اضافہ ہوسکتی ہے۔

ہائی بلڈ پریشر دل کے مختلف امراض ، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بڑھانے والا بڑا عنصر ہے۔

ہائی بلڈ شوگر
جب جسمانی طور پر زیادہ متحرک نہیں ہوتے تو جسم کے لیے بلڈ گلوکوز کو کنٹرول میں رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اس کے برعکس جسمانی سرگرمیاں کو معمول بنانے سے جسم کے لیے بلڈ گلوکوز کو کنٹرول میں رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

بلڈ شوگر لیول مستحکم رہنا ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔
کمر میں تکلیف
زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے جب اہم مسلز کمزور ہوتے ہیں تو وہ کمر کو درست طریقے سے سپورٹ نہیں کرپاتے، جس کا نتیجہ کمر درد کی شکل میں نکلتا ہے۔

مگر بچنا بہت آسان ہے بس کمر کے مسلز کو حرکت میں لائیں جیسے کھڑے ہونے یا دیگر ورزشوں سے ایسا ممکن ہوتا ہے۔

ہر وقت کھانے کی خواہش
زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے نتیجے میں بھوک کا احساس دلانے والے کچھ ہارمونز کی سطح میں تبدیلی آتی ہے جس سے ہر وقت کچھ کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

اس کے مقابلے میں چہل قدمی اور جاگنگ وغیرہ سے کھانے کی اشتہا کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اکثر نزلہ زکام کا سامنا
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ معتدل جسمانی سرگرمیوں کے نتیجے میں نزلہ زکام یا دیگر جراثیموں کا شکار ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

جب آپ ورزش کو عادت بناتے ہیں تو مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے جس کے نتیجے میں موسمی نزلہ زکام اور فلو وغیرہ سے متاثر ہونے خطرہ کم ہوتا ہے۔

روکھی جلد
اگر آپ کی جلد معمول کے مقابلے روکھے پن کا شکار ہو تو یہ بھی زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

کچھ تحقیقی رپورٹس میں یہ ثابت کیا گیا کہ معتدل جسمانی سرگرمیاں خون کی گردش اور مدافعتی نظام کو بہتر کرتی ہیں، جس سے جلد کو جوانی کی چمک برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

گردوں کے امراض
برطانیہ کی لیسٹر یونیورسٹی کی 2012 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ہر وقت بیٹھے رہنا گردوں کے سنگین امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

محققین کے مطابق طرز زندگی کے عناصر اور گردوں کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے مگر یہ پہلی بار ہے جب یہ بات سامنے آئی کہ سست طرز زندگی گردوں کے امراض کا شکار بھی بناسکتا ہے۔گردوں کے سنگین امراض میں یہ عضو خون کو ٹھیک طرح فلٹر نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں جسم میں کچرا جمع ہونے لگتا ہے اور بتدریج گردے فیل ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں موت کا خطرہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر بیٹھنے کا دورانیہ 8 گھنٹے سے کم کردیا جائے تو اس خطرے میں کچھ حد تک کمی لائی جاسکتی ہے جبکہ ورزش بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔