زیادتی کے خلاف سکھ برادری کا دفتر ضلع کلکٹر کے روبرو دھرنا

0 8

ناندیڑ:۶؍ دسمبر(عبدالرحمٰن):پربھنی شہر سے متصل بلسادیہات میں انتظامیہ کی جانب سے یکم دسمبر کو ناجائز قبضہ جات کے خلاف انہدامی کارروائی کی گئی۔سرکاری زمین پر قبضہ کا الزام لگا کر انتظامیہ کی جانب سے سکل دھاری سکھ سماج کے کئی مکانات کو مسمار کردیا گیا۔اسی زمین پر واقع گرودوارہ کو منہدم کردینے اور مذہبی جھنڈہ’ نشان صاحب‘ کی بے حرمتی کرنے کا الزام بھی سکھ سماج کی جانب سے لگایا جارہا ہے۔اس دوران کٹا سنگھ نامی ایک شخص کی صدمہ سے موت ہوگئی۔ان واقعات کا اثر ناندیڑ میں بھی دیکھنے کو ملا۔سکھ سماج میں غم و غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔اسی سلسلہ میں مقامی سکھ برادری کی جانب سےآج 6ڈسمبر کو دفتر ضلع کلکٹر کے روبرو ایک دھرنا منظم کیا گیاجس میں سکھ سماج سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں اور بزرگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔بعد ازیں مظاہرین نے ضلع کلکٹر کو ایک یادداشت بھی پیش کی۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ بے سہارہ اور بے گھر سکل دھاری سکھ سماج کے متاثرین کی فوراً بازآبادکاری کی جائے۔نشان صاحب کی بے حرمتی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔مہلوک کٹا سنگھ کے لواحقین کو پچیس لاکھ روپئے معاوضہ دیا جائے۔اس احتجاج میں اوتار سنگھ پہرے دار،گروبخش سنگھ بنگئی،مودی و دیگر سکھ لیڈران نے حصہ لیا۔