زہر کے تریاق کی تلاش میں اپنے آپ کو سانپوں سے ڈسوانے والا شخص

دنیا بھر میں سانپ کے ڈسنے کے باعث ہر پانچ منٹ میں ایک شخص ہلاک جبکہ چار زندگی بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔تاہم چند لوگ ایسے بھی ہیں جو اس رینگنے والے خطرناک جاندار کے زہر پر ہونے والے تجربات کی غرض سے زبردست خطرات مول لیتے ہیں۔امریکی ریاست وسکونسن سے تعلق رکھنے والے ٹم فرائیڈ جانتے بوجھتے اپنے آپ کو زہریلے سانپوں سے ڈسواتے ہیں اور یہ مناظر یو ٹیوب پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ایسی ہی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹم ایک مامبا سانپ سے اپنے آپ کو دو مرتبہ ڈسواتے ہیں اور اس کے فوراً بعد وہ کیمرے کی طرف دیکھ کر باتیں کرتے ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ سانپ کے ڈسنے کے باعث ان کے بازو سے خون بہہ رہا ہے۔

 

مامبا جنوبی افریقہ میں پایا جانے والا خطرناک زہریلا سانپ ہے۔’مامبا کے ڈسنے کے فوراً بعد درد ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کو ہزاروں شہد کی مکھیوں نے کاٹ لیا ہو۔ شہد کی مکھی میں ایک یا دو ملی گرام تک زہر ہو سکتا ہے، لیکن مامبا سانپ میں 300 سے 500 ملی گرام تک زہر ہوتا ہے۔‘سانپ کے ڈسنے کے بعد کیا ہوتا ہے یہ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’اس کے بعد میرا جسم سوج جاتا ہے۔ آئندہ چند روز میں بستر کا ہو کر رہ جاتا ہوں۔ جسم پر سوجن کو دیکھتے ہوئے میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ سانپ کا ڈنگ کتنا زہریلا تھا۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے۔‘لیور پول سکول آف ٹراپیکل میڈیسن سے وابستہ ڈاکٹر سٹورٹ اینسورتھ کہتے ہیں کہ ’یہ لوگ کیا کرتے ہیں ہم نہیں جانتے۔ ایسا کرنا غیر اخلاقی اور خطرناک ہے۔ ہم ان کے ساتھ کام نہیں کرتے۔‘ڈاکٹر اینسورتھ کا ادارہ ان چند اداروں میں ایک ہے جو نئی اور عالمگیر تریاق (زہر کا توڑ) پر کام کر رہے ہیں۔عمومی طور پر نئی بننے والی ویکسین کو پہلے چوہوں اور لیب میں موجود دوسرے جانوروں پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور ویکسین کے محفوظ ہونے کی صورت میں اسے کنٹرولڈ ماحول میں انسانوں پر آزمایا جاتا ہے۔snake men

ڈاکٹر اینسورتھ کہتی ہیں کہ ’بعض لوگ اپنے آپ کو زہر سے محفوظ رکھنے کی ویکسین لگا لیتے ہیں۔ مگر ایسا کرنا ہلاکت کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔ کسی کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘

ادویات بنانے کی عالمی صنعت میں زہر کے تریاق کے حوالے سے ہونے والی تحقیق میں باقاعدہ گائیڈ لائنز کی کمی ہے۔

نئی ویکسینز کی تلاش میں سائنسی طریقہ کار کو فروغ دینے والے ایک برطانوی ادارے ’ویلکم ٹرسٹ‘ کے مطابق ’(ویکسین کی) پیداوار، حفاظت یا افادیت کے حوالے سے کوئی مشترکہ معیارات نہیں ہیں۔‘

مہلک خطرہ

ٹم فرائیڈ ان خیالات کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر اپنے چاہنے والوں کی تعداد بڑھانے کی غرض سے وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔’میں ایسا یوٹیوب ویڈیوز بنانے کے لیے نہیں کرتا، میں زندگیاں بچانا چاہتا ہوں۔ میں نے یوٹیوب کو صرف ان ڈاکٹر حضرات کو تلاش کرنے کے لیے استعمال کیا جن کے ساتھ مل کر اب میں کام کرتا ہوں۔ یہ ایک بہت بڑا جوا تھا، مگر اس نے کام کیا۔‘سانپوں کی لگ بھگ تین ہزار اقسام میں سے صرف 200 کے قریب ہی ایسی ہیں جن میں اتنا زہر پایا جاتا ہے جو کسی انسان کو ہلاک یا معذور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ فرائیڈ ان مہلک اقسام کے سانپوں میں سے کئی اقسام کے بارے میں جانتے ہیں۔

چاہے وہ کوبرا سانپ ہوں، وائپرز یا مامبا۔ گذشتہ 20 برسوں میں ٹم فرائیڈ نے اپنے آپ کو دو سو مرتبہ سانپوں سے ڈسوانے کا براہ راست مظاہرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ 700 مرتبہ اپنے جسم میں زہر داخل کر چکے ہیں۔سانپ کے ڈسنے سے جسم میں داخل ہونے والے زہر کی مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات سانپ آپ کو ڈستا ہے مگر وہ آپ کے جسم میں زہر نہیں چھوڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ جسم میں خود سے زہر داخل کرنے کا مقصد زہر کی مقدار کو ریگولیٹ کرنا ہے۔

فرائیڈ کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کے جسم میں بلیک مامبا جیسے سانپ کے زہر کے خلاف قوت مدافعت نہیں ہے تو زہر آپ کے اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ آپ کا ڈایا فرام (پردہ شکم) منجمد ہو جاتا ہے اور آپ سانس نہیں لے سکتے، آپ کی آنکھیں بند ہو جائیں گی جبکہ آپ قوت گویائی سے محروم ہو جائیں گے، آہستہ آہستہ آپ معذور ہو جائیں گے۔ یہ آپ کے مرکزی اعصابی نظام کو متاثر نہیں کرے گا، اسی لیے جب تک آپ کی موت واقع نہیں ہوتی آپ سوچنے کی صلاحیت سے محروم نہیں ہوتے۔‘

کوبرا کا ڈسنا دہشت زدہ کر دینے والا ہوتا ہے

فرائیڈ نے اپنے گھر کے عقبی حصے میں بہت سے زہریلے سانپ رکھے ہوئے ہیں اور وہ ان کے زہر کو اپنے آپ پر ٹیسٹ کرتے رہتے ہیں۔

’میرے پاس افریقہ میں پایا جانے والا واٹر کوبرا ہے۔ اس کا ڈسنا دہشت زدہ کر دینے والا ہوتا ہے۔ یہ بہت مشکل تھا۔ یہ بہت خوف زدہ کر دینے والا تھا۔‘

واٹر کوبرا کے زہر میں نیورو ٹاکسنز پائے جاتے ہیں جو اعصابی خلیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

’دوسری نسل کے کوبرا سانپوں کے زہر میں سائٹو ٹاکسنز پائے جاتے ہیں جو زندہ خلیوں اور بافتوں کی موت کا باعث بنتے ہیں۔ سائٹو ٹاکسنز ریٹل سانپ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس زہر کے زیرِ اثر انسان اپنی انگلی اور بعض اوقات پورے ہاتھ سے محروم ہو سکتا ہے۔‘

فرائیڈ اس تھیوری کے قائل ہیں کہ مختلف اوقات میں زہر کی تھوڑی تھوڑی مقدار جسم میں داخل کر کے کوئی بھی انسان زہر کے خلاف اپنی قوت مدافعت کو بڑھا سکتا ہے، تاہم اس طریقہ کار کو کافی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

Coming Soon
Who Will Win Bhokar Assembly Constituency?
Indian National Congress
BJP
Coming Soon
Who Will Win Nanded North MLA Seat
D.P Sawant Congress
Feroz Lala AIMIM
VBA
Shiv Sena
Coming Soon
Who will Win Nanded South MLA Seat
Indian National Congress
ShiveSena
AIMIM
Vanchit Bahujan Aghadi
Dilip Kundkurte Independent

chrome_5UcEeDOjV2
آب و ہوا میں تبدیلی:کیا دنیا ڈوبنے والی یے؟
حیدرآباد: سات لڑکیوں سے شادی ، مزید چھ کے ساتھ جنسی تعلقات ۔ ایک شخص گرفتار

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me