صدیوں سے کلونجی کا استعمال مختلف امراض سے بچاؤ کے گھریلو ٹوٹکے کے طور پر کیا جارہا ہے . کلونجی بےحد قوّت بخش غذا ہےاور بطور دوا بھی استعمال کی جاتی ہے .جسم میں رُکے ہوئے ہر قسم کے زہریلے مادّے اور جراثیم خارج کرتی ہے،تو زہر کا تریاق بھی ہے. کلونجی کو اگر ناشتے میں استعمال کیا جائےتو یہ میٹابولزم درست رکھتی ہے، دائمی قبض کی تکلیف رفع کرتی ہےاورجسمانی طاقت و توانائی بحال کر کے قوّتِ مدافعت بڑھاتی ہے.

ہر قسم کے وائرل انفیکشنز، وبائی نزلہ زکام، کھانسی اور نمونیےسمیت سینے کے امراض سے محفوظ رکھتی ہے. کلونجی کو آپ اپنی غذا میں ڈال کر استعمال کرسکتے ہیں جیسے دہی اور لیموں کے عرق میں اسے مکس کریں اور پی لیں. اسی طرح ناشتے یا رات کے کھانے میں بھی اس کے چند دانے چھڑک کر کھانا آپ کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے. اس میں جراثیم کش اور رسولی سے بچاؤ کی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں اور کلونجی کو مشرقی وسطیٰ میں 2 ہزار سال سے زائد عرصے سے استعمال کیا جارہا ہے اور عرب افراد اسے دوا کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں.

مختلف امراض جیسے یرقان، جلدی عوارض، ہاضمے کے مسائل ، دمaہ، ہڈیوں کی کمزوری اور بخار وغیرہ کے علاج کے لیے ان کا استعمال ہوتا ہے. کلونجی کا تیل اس کے سفوف کے مقابلے میں زیادہ بہتر اثر کرتا ہے مگر سفوف صحت کے لیے فائدہ مند سمجھے جانے والے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح کو بڑھاتا ہے. دانتوں کے مسوڑے سوج رہے ہیں یا خون نکل رہا ہے، یا دانت کمزور ہوگیا ہے؟ ویسے تو ایسی صورت میں ڈینٹسٹ سے رجوع کیا جانا چاہیے تاہم عارضی طور پر دہی میں کچھ مقدار میں کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار ملنا مسوڑوں کو مضبوط بناسکتا ہے.

BiP Urdu News Groups