Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

زکوٰۃ کی رقم پی ایم کیئر فنڈ میں دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟

IMG_20190630_195052.JPG

نقاش نائطی

+966594960485

گویا اپنے پاس آئے مال پر پورا ایک سال بیت جانے کے بعد، اس مال کا ڈھائی فیصد، وقت پر غرباء و مساکین میں ادا کرتے ہوئے، اپنے مال کی حفاظت اللہ کے سپرد کیا کرو، وقت پر زکاة نہ ادا کرنے سے ہمارا آپ کا مال ناپاک اور گندہ ہوجائے گا اور اس ناپاک اور گندے مآل کی حفاظت کی گیارنٹی بھی، اللہ کی طرف سے ختم ہوجائے گی۔اور قرآن و حدیث میں ہم مسلمانوں کو زکاة کےعلاوہ مختلف اقسام کے صدقات ادا کرتے ہوئے، اپنے پیدا کرنے والے مالک الملک کی قربت و رضا حاصل کرنے کی جو ترغیب دی ہوئی یے۔ اس عام نفلی صدقات میں اپنے مستحق ھندو بھائیوں کی بھی مدد کرتے ہوئے، انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے، اپنے پیدا کرنے والے مالک الملک کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے

سب سے اہم، زکاة جو ہم اپنے مال سے اللہ کے حکم سے نکالتے ہیں اسے کن کن لوگوں تک پہنچانا ہے، یہ بھی قرآن کے واسطے سے اللہ رب العزت نے صریح احکامات سے ہم مسلمانوں کو بتا دیا ہے۔ جس طرح اللہ کے حکم سے اپنے مال کی زکاة نکالنا ہم تمام مسلمین پر فرض ہے، ویسے ہی زکاة میں نکالی ہوئی رقم کو قرآن و حدیث میں وضاحت سے بتائے گئے مستحقین تک پہنچانا بھی،صاحب نصاب زکاة کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی مسلمان اللہ کے بتائے ہوئے صحیح طریقے سے، اپنے مال کی زکاة تو نکالتا ہے لیکن اسے مستحقین تک پہنچانے میں، دانستہ کوتاہی کرتے ہوئے، غیر مستحقین میں زکاة تقسیم کرتے ہوئے، اپنے فرض منصبی "تقسیم زکاة” سے بچنے کی کوشش کریگا تو کل بعد الموت قیامت کے دن پیدا کرنے والے مالک الملک کے آگے جوابدہ ہوگا۔اس لئے ہم مسلمانوں کو چاہئیے کہ پوری کوشش کرتے ہوئے اپنے زکاة کے مال کو قرآن و حدیث میں، وضاحت سے بتائے ہوئے مستحقین زکاة غرباء و مساکین میں تقسیم کریں۔ اور مستحقین زکاة میں سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں تک زکاة کی رقم پہنچانا مستحب ہے۔ اگر کسی مالدار، صاحب نصاب زکاة شخض کا، اپنا کوئی بھائی یا بہن نہایت غریب و مفلس تنگ دست یا مقروض ہے، تو اپنی زکاة کو سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کرنا چاہئیے۔ اور انہیں زکاة کی رقم سے مدد کرتے وقت یہ رقم زکاة کی ہے، بتا کر دیتے ہوئے، ان کی تضحیک یا ہم آپ کے سامنے انکے خجل یا شرمندہ ہونے سے بچنا چاہئیے۔

فی زمانہ اس کورونا متعدی امراض پورے بھارت لاک ڈاؤن تناظر میں، گھر آنگن کے باہر ان رمضان کے ایام فقراء و مساکین کے ساتھ ہی ساتھ، مستحقین دینی مدارس کے وفود کی عدم دستیابی کے پس منظر میں، اپنی زکاة کسے اور کب ادا کی جائے اور رمضان کے بعد ادا کرنے کی صورت میں رمضان المبارک میں زکاة کی تقسیم پر دس سے ستر گنا زیادہ ثواب ملنے کی توقعات خداوندکریم سے ہم مسلمان ک ہے،کیا وہ فیوض و برکات،اپنی زکاة، کو بعد رمضان ادا کرنے سے بھی، ہمیں دستیاب ہوجائیں گے؟ اس سمت آسان سا جواب ہے کہ خالق و مالک دو جہاں کے یہاں ہماری زکاةکی مقدار و تعداد سے زیادہ، ہماری نیک نیتی، اخلاص درکار ہوتی ہے اس لئے اس کورونا پینڈیمک پس منظر میں،اپنی زکاة کی رقم کو الگ رکھکر، پس پشت اس نیت سے رکھتے ہیں کہ بعد رمضان، اسے اصلی مستحقین تک پہنچانے میں آسانی ہوگی تو یقینا اللہ رب العزت ہماری نیتوں کے پیش نظر، ہماری توقعات سے زیادہ ہمیں آجر دیگا۔ انشاءاللہ

اب رہا یہ مسئلہ کہ اس کورونا پینڈیمک پس منظر میں،اس وبا سے قوم و ملت کو بچانے پرائم منسٹر کے، پی ایم کیر فنڈ میں بھی، کیا زکاة کی رقم دینے سے، ہماری زکاة کیا ادا ہوجائے گی؟ خصوصا آر ایس ایس کی جانب سے اپنی زکاة کی رقوم کو، پی ایم کیر فنڈ میں دینے کی ہم مسلمانوں سے کی گئی درخواست کے پیش نظر، اور بعض نام نہادسنگھی مسلمانوں اور سنگھیوں کے ہاتھوں بکے ہوئے نام نہاد ملاؤں کی طرف سے زکاة "پی ایم کیر فنڈ” میں دینے کی ترغیب دیتے بیانات کے پس منظر میں، اس بات کا ادراک رکھنا ضروری ہے کہ اولا، ایسے سرکاری فنڈس سے عمومی طور پر، رفاہ عام کے اخراجات میں خرچ کئے جاتے ہیں جن میں ایک بڑی رقم غرباء و مساکین کے علاوہ، غیر مستحقین زکاة والے عام صاحب حیثیت لوگوں پر بھی،یہ رقم خرچ کی جاتی ہے اور ثانیا ایسے حکومتی فنڈس کاعموما سیاسی طور غلط استعمال و استحصال بھی ہوتا ہے اس لئے ایسے فنڈس میں زکاةکی رقم دینے سے احتراز ضروری ہے۔
خصوصا پی ایم کیر فنڈس سے کورونا پینڈیمک سے لڑنے پچاس ہزار وینٹی لیٹر مشین خریدنے کے اعلان اور گجرات سرکار کے اپنے برہمن پونجی پتی مخصوص کمپنی سے پانچ ہزار ناقص وینٹی لیٹر مشینیں خریدے جانے کے گھوٹالے پر سے پردہ فاش ہوتے تناظر میں،ایسے کسی سرکاری فنڈ میں زکاةکی رقم ادا کرنے سے احتراز ضروری ہے، ہاں البتہ ڈھائی فیصد غرباء و مساکین کے حق والی اس زکاة فنڈ کے علاوہ، اپنے مال سےدیگر نکالے جانے والے عام نفلی صدقات سے، کچھ رقم اپنے سیاسی مقاصد کی حصولیابی کے لئے حکومتی فنڈس میں دئیے جاسکتے ہیں اس کی گنجائش ممکن ہے مگر فرض زکاة کی مد سے حکومتی فنڈ میں دینا درست نہیں ہوگا، اگر کوئی مسلمان اس طرح زکاة ادا کرتا ہے تو اس کی فرض زکات ادا نہیں ہوگی۔واللہ الموافق بالتوفیق الا باللہ