زندہ خلیات سے تیار کردہ دنیا کا پہلا روبوٹ زینو بوٹ دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حیاتیاتی افزائش نسل کی نئی شکل دریافت کی ہے جو کسی بھی پودے یا جانور میں نظر نہیں آتی۔

گزشتہ سال سائنسدانوں نے مینڈک کے اسٹیم سیل کی مدد سے دنیا کا پہلا زینو بوٹ بنایا تھا جو ایک محلول میں کچھ کھائے پیئے بغیر ایک ہفتے تک تیر سکتا ہے۔اس عمل میں 500 سے 1000 خلیات کو ایک جگہ جمع کرکے ملی لٹر سے بھی چھوٹی جسامت کا ایک بلبلہ نما روبوٹ بنایا گیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔