زندگی کے‌ماہ و سال بدلنے سے کچھ نہیں ہوتا ،جب تک آپ خود بدلنا نہ چاہے

0 65

ذوالقرنین احمد 9096331543

زندگی کا تسلسل جاری و ساری ہے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو وجود بخشنے سے پچاس ہزار سال قبل تمام انسانوں کی تقدیریں لکھ دی ہیں جب اللہ تعالٰی کا عرش پانی پر تھا، سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تخلیق بخشی اور انکی ایک پسلی سے حوا علیہ السلام کو کو پیدا کیا اور وہاں سے دنیائے انسانی کی ابتدا ہوئی آج دنیا میں بسنے والے کالے گورے ،عربی عجمی، امیرغریب، بادشاہ فقیر، عالم جاہل، بچے بوڑھے، مرد عورت، تمام کے تمام آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کی جان پہچان کیلئے ان لوگوں میں قبیلے بنا دیے تاکہ انسان اپنے قریبی اور محرم نا محرم رشتوں کو پہنچان سکے، اور ایک کو دوسرے پر اس لئے فوقیت دی کے وہ اپنے کام ایک دوسرے سے نکال سکے، ویسے تو کسی گورے کو کالے پر عربی کو عجمی پر مالدار کو غریب پر، کوئی فضیلت نہیں ہے لیکن تقوی اختیار کرنے والے افضل ہے جو سب سے زیادہ اللہ کی معیشت اللہ سے شدید محبت، کرنے والے اور اللہ کا ڈر رکھنے والے ہے، انسان کے دنیا میں آنے کے بعد اسکے مقدر میں لکھی گئی تقدیر کے مطابق وہ اللہ تعالیٰ کے نعمتوں کا استعمال کرتا ہے اور وہ لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا وہ تو بندے کو ملنا ہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دعا کی نعمت سے نوازا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھ سے مانگو میں عطا کرونگا اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں تو کوئی کمی نہیں ہے، انسان کی زندگی مختصر سی ہے ایک دن ہر شخص کو اس دار فانی سے کوچ کر جانا ہے، کیونکہ ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے.

لیکن آج کے اس جدت پسندی کے دور‌میں نئی نئی رسومات جو یہودیوں عیسائیوں کی ایجاد کردہ ہے آج ہمارا معاشرہ ان غیر شرعی رسومات کو پورا کرنے کیلئے بے چین دیکھائی دیتا ہے نوجوان نسل تو غیر مذہبی رسومات کو ادا کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کر رہی ہے افسوس تو اس‌ بات کا ہے کہ کانوینٹ اسکول کے بچیں بھی ایسے کئی یہودیوں اور عیسائیوں کی رسومات کی مبارکباد دیتے مناتے دیکھائی دیتے ہیں، آج کل ‌نئے سال کے شروع ہونے سے قبل تھرٹی فرسٹ کی رات میں خوشیاں منانے کا کریز نوجوانوں میں بڑھتا جارہا ہے کالج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات اکثر اس دن کو بڑے اہتمام سےسلیبرٹ کررہے ہیں جس میں شراب نوشی ، ناچ گانے، ڈانس بار میں پیسے لٹانا، اور عیاشی کرنا پٹاخے جلانا، سمندر کے کنارے نئے سال کے جشن کا اہتمام کرنا، یہ تمام بے حیائ کے کام آج نوجوان لڑکے لڑکیاں بڑے جوش کے ساتھ کرتے ہیں، حالانکہ اگر غور کیا جائے تو زندگی کا ایک سال ہماری عمر میں سے کم ہوگیا ہے اور نادان اپنی موت کے قریب آنے کا جشن منانے میں مصروف ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے عقل مند و ہشیار ہے وہ شخص جو موت سے پہلے موت کی تیاری کرلے، کیونکہ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے ویسے لمحہ لمحہ ہم‌ اور آپ موت سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں، ضرورت تو اس بات کی ہے کہ آج ہم اپنی پچھلی زندگی پر غور خوص کریں اس پر نظر ڈالیں، کہ ہم نے کتنے لوگوں کا دل دکھایا، کتنے کو خوش رکھا، کتنے قریبی اور دور کے رشتے داروں کو کھو دیا، کسی کا ناحق مال غضب کیا، کسی کا قرضہ ڈوبایا، کسی پر ناحق ظلم کیا، پچھلے ایک سال میں اپنے آپ سے تنہائی میں بیٹھ کر سوال کریں کہ میں نے کتنے اچھے کام کیے کتنے حرام اور غلط کام کیے.

میں اللہ کی کتنی فرمابردار کی میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا کیا حق ادا کیا، میرا پچھلا سال جو اب گزر چکا جس کا ایک لمہ بھی اب دنیا کی تمام دولت کے بدلے خریدا نہیں جا سکتا میں نے کیسے اتنی آسانی سے گنوا دیا یہ تو زندگی اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور اسی کی نافرمانیوں میں اگر یہ گزری ہے تو بڑے افسوس کی بات ہیں، کیوں جب روز محشر کے دن حشر کے میدان میں فرشتے انسانوں کو چرواہ جسطرح جانوروں کو ہکالتا ہے اس طرح ہکالتے ہوئے لے جائے گے تب انسان کی آنکھ کھل جائے گی اور سب سمجھ میں آجائے گا اور پھر اللہ سے مطالبہ کرے گا اے اللہ میں نے دیکھ لیا سجمھ لیا اب مجھے میں ایک مرتبہ پھر سے بھیج دیں میں ایک لمحہ بھر بھی تیری نافرمانی نہیں کرونگا لیکن وہاں مہلت ختم ہوچکی ہوگی، یہ وقت غفلت میں گزارنے کا نہیں ہے اور ناہی نئے سال کے جشن منانے کا ہے بلکہ اپنے آپ کا محاسبہ کرنے کا ہے کہ میرے اندر کیا تبدیلی آئی یا میں گزشتہ سال کی طرح سے اور بھی غفلت میں زندگی گزار رہا ہوں میری حالت میں کوئی تبدیلی آئی یا نہیں ورنہ ماہ و سال اور کیلنڈر کے بندلنے سے تو تبدیلی نہیں آنے والی نا ہی مبارکباد دینے سے تبدیلی وقوع پذیر ہوجائیے گی.

اس لیے اپنا محاسبہ کیجئے اپنے حالات کا جائزہ لیجیے زندگی مختصر سی ہی کب ختم ہو جائے گی کسی کو کوئی پتہ نہیں کیوں اللہ تعالیٰ بھی ان لوگوں کے حالات تبدیل نہیں کرتا جو خود تبدیل ہونا نہیں چاہتے اس لیے ترقی کی دوڑ میں اپنے آپ کو شریک کریں حالات بڑے نازک دور سے گزر رہے ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آنے والے سال کو ہمارے لئے خوشیوں محبتوں، امن و سلامتی کا زریعہ بنائے آمین۔