تنازعہ کی یکسوئی کیلئے کمیٹی کی تشکیل ، ارکان کمیٹی سے احتجاجی کسان غیر مطمئن۔ احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو زرعی اصلاحات کے تینوں قوانین پر عمل درآمد کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے اور ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے ، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رما سبرامنیم کی ڈویژن بینچ نے مختصر سماعت کے بعد کہا: ’’ہم اگلے احکامات تک زرعی اصلاح کے تینوں قوانین کو معطل کررہے ہیں۔ ہم ایک کمیٹی بھی تشکیل دیں گے‘‘۔ عدالت عظمی نے کہا کہ ہم کمیٹی پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی تشکیل کرنے جارہے ہیں۔ یہ کمیٹی عدالتی کارروائی کا حصہ ہوگی۔ عدالت نے کمیٹی کے لئے زرعی معاشی ماہرین اشوک گلاٹی ، ہرسمرت مان ، پرمود جوشی اور انیل گھنوت کے نام کی تجویز بھی کی ہے ۔ درخواست گزاروں میں سے ایک ایڈوکیٹ ایم ایل شرما نے بنچ کو بتایا کہ کسانوں نے کہا ہے کہ وہ عدالت عظمی کے ذریعہ قائم کردہ کسی بھی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ عدالت نے کمیٹی میں نہ جانے پر کسانوں کی سرزنش کی اور کہا کہ وہ اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں ، لیکن اگر کسان غیر معینہ مدت تک احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو وہ کرسکتے ہیں۔ شرما کے مطابق کسانوں کا کہنا ہے کہ بہت سارے لوگ تبادلہ خیال کرنے آئے تھے ، لیکن وزیر اعظم نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ اس پر جسٹس بوبڈے نے کہاکہ وزیر اعظم کو ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بات چیت میں شامل ہوں۔ عدالت نے کسانوں کی تنظیموں سے کہاکہ یہ سیاست نہیں ہے۔ سیاست اور عدلیہ میں فرق ہے اور آپ کو تعاون کرنا ہوگا۔ کمیٹی تشکیل دینے کے معاملے پر زور دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم کمیٹی بنائیں گے ، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس کی تشکیل سے نہیں روک سکتی۔ ہم حقیقی صورتحال کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اس پر اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل بہتر خیال ہے اور وہ اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ جسٹس بوبڈے نے کہا کہ ہم ایک کمیٹی اس لئے تشکیل دے رہے ہیں تاکہ ہمارے پاس واضح تصویر موجود ہو۔ ہم اس دلیل کو نہیں سننا چاہتے کہ کسان کمیٹی میں نہیں جائیں گے ۔ ہم اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ (کسان) غیرمعینہ مدت تک احتجاج کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کرسکتے ہیں۔اس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ہمیں احتجاج سے متاثر شہریوں کی جان و مال، جائیداد کے تحفظ کے بارے میں بھی تشویش ہے۔ ہم اپنے اختیارات کے مطابق مسئلہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہمارے پاس اختیارات میں سے ایک قانون کو معطل کرنا اور کمیٹی تشکیل دینا ہے۔ درخواست گزاروں میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے کہاکہ قوانین کے نفاذ پر پابندی کو سیاسی فتح کے طور پر دیکھنے کی بجائے زرعی قوانین پر اظہار تشویش کی سنجیدہ جانچ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ اپنی بحث کے دوران سالوے نے دلیل دی کہ ممنوعہ تنظیمیں مظاہرے کے لئے مالی اعانت فراہم کررہی ہیں۔ اس کا ذکر عدالت کے روبرو ایک درخواست میں کیا گیا، اس پر عدالت نے وینوگوپال سے اس کی تصدیق چاہی۔

BiP Urdu News Groups

اپنی رائے یہاں لکھیں