پاکستان کے ضلع سکھر کی پولیس کے مطابق روہڑی کے قریب 16 سالہ ہندو لڑکی پوجا کماری کو چند ملزمان نے گھر میں گھس کر مبینہ طور پر اغوا کرنے کی کوشش کی اور مزاحمت کرنے پر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ روہڑی کے قریب پٹنی تھانہ کی حدود میں واقع چھوہارا منڈی کے قریب پیش آیا ہے۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سکھر سنگھار ملک نے پیر کی شام سکھر میں مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پوجا کماری کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم واحد بخش لاشاری کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور آلہ قتل بھی پولیس نے برآمد کر لیا ہے۔ایس ایس پی سکھر کے مطابق ملزم واحد بخش نے مقتولہ پوجا کماری سے شادی کرنے کے لیے انہیں اغوا کرنا چاہتا تھا۔

ان کے مطابق اسی مقصد سے ملزم مقتولہ کے گھر میں گھسا، مگر مقتولہ نے ملزم کے ساتھ جانے سے انکار کرتے ہوئے مزاحمت کی، جس پر ملزم نے لڑکی کے سر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔واقعے کے بعد ورثا نے مقتولہ پوجا کماری کی لاش قومی شاہراہ پر رکھ کر دھرنا دیا، جس کے بعد ملک کی سب سے مصروف شاہراہ پر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔

سکھر کے صحافی تاج رند نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’قومی شاہراہ پر دھرنے کے باعث سندھ سے ملک بھر کی طرف جانے اور آنے والی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔‘’دھرنا دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا۔ دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل تھی جبکہ پولیس نے ورثا سے درخواست کرکے دھرنا ختم کرایا۔‘

ترجمان سکھر پولیس بلال لغاری کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزم واحد بخش لاشاری نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تھانہ پٹنی کے حدود میں مقتولہ ’پوجا کماری کو بھگانے کی غرض سے گھر میں گھسا، مقتولہ کے انکار پہ ملزم نے انتہائی قدم اٹھایا اور فائر کر کے موقع سے فرار ہوگیا۔ فائرنگ سے مقتولہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پہ ہی ہلاک ہوگئی۔‘

مقتولہ پوجا کماری کے والد صاحب اوڈ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں نوجوان ہندو لڑکیوں کو اغوا کرکے زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے متعدد واقعات ہوتے رہتے ہیں، مگر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندو لڑکیاں اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے کسی مسلمان لڑکے سے شادی کرلیتی ہیں۔

’آج میری بیٹی پوجا کماری نے گھر میں گھس کر اغوا کرنے والے ملزم کو نہ صرف انکار کیا مگر مزاحمت بھی کی۔ اب تو مان لیں کہ ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرانے کے لیے اغوا کیا جاتا ہے۔‘  صاحب اوڈ کے مطابق ملزم کئی ماہ سے ان کی بیٹی کو تنگ کر رہا تھا۔ ’کئی بار گھر میں گھس آیا، جس پر پولیس کو درخواست دے کر تحفظ دینے کا کہا گیا، مگر سکھر پولیس نے اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی۔‘

’اگر سکھر پولیس میری درخواست پر کارروائی کرتی تو آج میری بیٹی قتل نہ ہوتی۔ جب بھی کسی ہندو لڑکی کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولیس کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے، جس کا ہمیشہ دکھ رہے گا۔‘ اس سلسلے میں ایس ایس پی سکھر سنگھار ملک سے رابطہ کیا گیا، مگر انہوں نے اس واقعے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔