دہرہ دون ۔ اترکھنڈ کے چیف منسٹر ٹریویندر سنگھ راوت نے آج کہا کہ امریکہ سے کام کرنے والی تنظیمیں جیسے انصاف برائے سکھ اور پاکستان سے سرگرم تقریبا 300 ٹوئیٹر ہینڈلس کے ذریعہ کسانوں میں غصہ کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو چیلنج کیا کہ وہ بتائیں کہ یہ قوانین کس طرح سے کسانوں کیلئے مضر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے احتجاج کی تائید کرنے والے ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نئے قوانین کے ذریعہ کسانوں کو حقیقی آزادی مل سکتی ہے کہ وہ اپنی پیداوار جہاں چاہیں فروخت کریں۔ اس کے علاوہ ان کیلئے روایتی منڈیاں بھی برقرار رہیں گی ۔ راوت نے کہا کہ اگر احتجاجیوں سے کہا جائے کہ وہ ان قوانین کے مضر ہونے کو ثابت کریں تو وہ ایسا نہیں کرپائیں گے ۔ مسٹر راوت نے کہا کہ کسانوں میں جو غصہ ہے وہ امریکہ سے کام کرنے والی سکھ تنظیمیں اور پاکستان کے ٹوئیٹر ہینڈلس نے بھڑکایا ہے ۔ انہوں نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز پر تنقید کی جس نے نریندر مودی کو ’ خطرناک محب وطن ‘ قرار دیا تھا ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں