ریاض : سعودی دارالحکومت ریاض میں منگل کے روز یمنی فریقوں کے بیچ مشاورت کا آغاز ہوا۔ اقوام متحدہ کی سرپرستی اور خلیج تعاون کونسل کی حمایت سے ہونے والی یہ مشاورت 7 اپریل تک جاری رہے گی۔مشاورت میں 6 امور پر بات چیت ہو گی جن میں عسکری ، سیاسی ، انسانی اور سماجی بحالی شامل ہے۔ علاوہ ازیں انسانی گزر گاہوں کے کھولے جانے اور ملک میں استحکام کو یقینی بنانے کے معاملات بھی زیر بحث آئیں گے۔خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل نائف الحجرف نے تمام یمنی فریقوں پر زور دیا کہ وہ ان مذاکرات میں شریک ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مشاورت اس بات کی یقین دہانی ہے کہ بحران کا حل یمنیوں کے ہاتھوں میں ہے۔یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی نے ہفتے کے روز باور کرایا تھا کہ یمنی عوام ایرانی تجربہ قبول نہیں کر سکتی ہے۔
، عوام ریاست کی واپسی اور بغاوت کے خاتمے کے لیے مسلسل حالت دفاع میں رہیں گے۔منصور ہادی نے یہ بات یمنی ریاست کی قیادت کے ساتھ ایک خصوص اجلاس کے دوران میں کہی۔ اجلاس میں صدر کے نائب کے علاوہ وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی شریک تھے۔