ریاست حیدرآباد کا خونی زوال 17/سیپٹیمبر 1948 ✍سید عمران ناندیڑ

1,851

آصف جاہی سلطنت کی داغ بیل نظام المک نے مغلیہ دور کے ایسے تاریخی موڑ پر رکھی تھی کے اورنگزیب عالمگیر کے انتقال کے بعد اُنکے وارثین مغلیہ سلطنت کو چلانے کی قابل نہیں رہے تھے اور سلطنت میں مرہٹے جاٹ سکھوں اور راجپوت کے فتنے سر اٹھا رہے تھے، نظام الملک اگر اپنے خود مختاری کا علان نہ کرتے اور اپنے حدود میں انے والے مرہٹوں کی وقت رہتے علاج نہ کرتے تو وہ ایک بڑی طاقت بن کر

اُبھرتے جنہیں روکنا نہ ممکن ہوجاتا دراصل خود مختاری کا علان کرکے نظام ملک نے مرہٹوں کی کمر توڑ دی اس خود مختاری کے باوجود مغل شہنشاہ محمد شاہ اور نظام الملک کے تعلقات اچھے تھے اسی لیے نظام المک کو آصف جاہ کا خطاب بھی دیا اور جب ضرورت پڑی دہلی جاکر مغل شہنشاہ کی مدد بھی کے جس میں مرہٹوں کی سر کوبی بھی شامل ہے، نظام المک کا انتقال 1748۶ میں ہوا انکے بعد 5 بادشاہوں نے ریاست پر حکومت کی ساتویں اور آخری فرما روا میر عثمان علی خان تھے۔

ریاستِ حیدرآباد برصغیر کی سب سے بڑی ریاست ہونے کے علاوہ ہندوستان کے عین وسط میں تھی اور میر عثمان علی کے دور میں ہر لحاظ سے ترقی یافتہ تھی آپکے زرین کارنامے اور رفاہ عام کے کاموں کی ایک طویل فہرست ہے انکے زمانے میں ترقّی کا ایک سیلاب آگیا تھا اور عوّام الناس خوشحال تھی ریاستِ حیدرآباد کو میر عثمان علی خان نے ہر اعتبار سے خود مختار اور کامیاب ریاست بنایا تھا، مگر اس حقیقت کو بھی قبول کرنا ہوگا کے سلطنت کے زوال کی جو وجوہات بنی اُس پر عثمان علی خان نے توجہ نہیں دی یا کم دی، ریاستِ حیدرآباد مسلم انصاف پسند ریاست تو تھی جس میں تمام مذاھب کو ساتھ لیکر چلنے کا جذبہ تھا مگر مکمّل شریعہ نافذ اسلامی ریاستِ نہیں تھی شاید یہی وجہ تھی

کہ جرنل عيدروس نے بڑی آسانی سے اپنی قوم کو دشمن کے سامنے مرنے کیلئے چھوڑ دیا اور کوئی دفاع کیئے بغیر منصوبہ بند طریقہ پر ہتیار ڈال دیئے نہ جذبہ جہاد جاگا اور نا اسلامی ریاست کیلئے لڑنے کا روحانی حوصلا، جنرل عیدروس نے شاید اندازہ بھی نہیں کیا ہوگا کے اُنکے اسطرح ہتیار ڈال دینے سے 3 لاکھ مسلمانوں کو اپنی جانے مستورات نے اپنی عزتِ اور ان گنت تاجروں کو ایک بڑے معاشی بحران سے گزرنا ہوگا، غرض مسلمانوں کو ایک معاشی بحران کی طرف ڈھکیل دیا گیا، حیدرآباد کے اضلاع کے چھوٹے چھوٹے گاؤں پر مانو قیامت صغریٰ نافذ کردی گئی ہو۔

اُدھر 11 ستمبر 1948 کو محمد علی جناح کا انتقال ہوا اور 13 ستمبر کی الصبح ہندوستانی افواج نے جنگ کا علان کردیا اور ریاست کی سرحد کو کوئی پچیس تیس جگہ عبور کرنا شروع کردیا، انڈین یونین افواج کا ہدف شہر حیدرآباد تھا اس لیے چاروں طرف سے ہونے والی فوج شہر حیدرآباد کی طرف گامزن تھی، راستہ میں جو بھی ضلعی شہر تعلقہ جات کے مستقر وغیرہ ملے وہاں کی انتظامیہ فوج کے سپرد ہوتی اور پیش قدمی جاری تھی، جنگ کا علان تو ہوا تھا مگر دومد مقابل حریف کا کہیں دوبدو مقابلہ نہیں ہوا، ہندوستانی کی کوئی مزاحمت حیدرآبادی افواج نے نہیں کی، حیدرابادی افواج کے کمانڈر عیدروس بیلٹ تنگ کرنے کے بہانے اپنی فوج کو پیچھے ہٹاتے رہے ہندوستانی فوج ایک طرفہ مارچ کرتی ہوئی شہر میں 17 ستمبر 1948 کو بعد دوپہر پُہنچ گئی، جس طرح پولیس کسی کاروائی میں پولیس بلا مزاحمت اپنی من مانی کرتی ہےاسی طرح

ہندوستانی فوج داخلِ حیدرآباد ہوئی اسی لیے غالباً اس فوج کشی کو پولیس ایکشن کا نام دیا گیا؟ پولیس ایکشن ختم ہونے کی بعد ہندوستانی افواج اور حیدرآباد افواج کے درمیان بعض مقامات پر مد بھیڑ کے قصّے پڑھنے کو میلے لیکن وہ سبھ زیب داستان سے زیادہ نہیں, اس طرح ہندوستانی فوج 17 ستمبر 1948 کو حیدرآبادی فوج کے ہیڈ کوارٹر سکندرآباد پُہنچ گئی، رسمِ قبولی شکست بیگم پیٹھ ہوائی اڈّے پر ہونا طے ہوا، اس بات پر ہر کوئی حیران تھا کے دونوں افواج کے درمیان گولی کیوں نہیں داغی گئی!؟ جو حيقت آشکار ہوئی اُس سے ہے بات سمجھ آتی ہے کے نظام کے خاص الخاص تھے انہوں نے ایک سازش رچی جس کے تحت ریاستِ حیدرآباد کو ایک کشتی میں رکھ کر بطور نذرانہ حکومتِ ہند کو دینا طئے ہوا، یہ وعدہ کیا گیا تھا کے حیدرابادی فوج کوئی مقابلہ نہیں کریگی اگر رضا کار کوئی مزاحمت کریں تو اس سے نپٹنے کیلئے ہندوستانی فوج آزاد رہیگی۔

بھارتی فوج کا اگر کسی سے مقابلہ ہوا ہے تو وہ حیدرآبادی فوج نہیں بلکہ رضا کاروں کا لا تجربہ کار اکسری گروہ تھا جن میں سے بہت کم کے پاس ہتیار تھے لگ بھگ 5٪ رضاکاروں کے پاس وہ بھی بہت پُرانے (بھرمار رائفل) اس کے استعمال کا یہ طریقہ تھا کے بندوق کی نالی میں تین سے چار انچ بارود ڈالکر اچھا ٹھوسا جاتا اور بعد میں گولی یا چہرّہ ڈالکر کر لبلبی (گھوڑا) کے اوپر والے حصّے میں ایک پھول جو چھوٹی ٹوپی کے شکل کا جو تانبے کا ہوتا تھا وہ فٹ کیا جاتا اور آخر میں گھوڑا دباکر فائر کیا جاتا، یہ عمل کافی وقت درکار تھا جبکہ بھارتی فوج کے پاس جدید ہتیار تھے جن کا ہدف ایک میل تھا اور وہ بکتر بند ٹینک گاڑیوں میں ہوتے اور بڑی آسانی سے رضا کاروں کو نشانہ بناتے جسکی وجہ سے 14 ستمبر 1948 کو ہزاروں رضا کار مارے گئے محاذ سے جو رضا کر بچ کر ائے اُنہونے بتایا کے بھرمار بندوق نہ تو افینس کا ہتیار تھا اور نا ہی ڈیفنس کا، رضا کاروں کی 90٪ تعداد ایسی تھی جنکے پاس صرف لاٹھیاں تھی اور وہ بھی قسم قسم کی رضا کاروں کو طریقے سے پریڈ بھی کرنے نہیں آتی تھی اور نہ اُنکے وردی میں

یکسانیت تھی شہر میں کُچھ کے پاس برین گن اور اسٹین گن تھی لیکن سبھ جانتے تھے کے یہ گنیں ہاتھی دانت سے زیادہ کُچھ نہیں تھی، رضا کار بھلے ہی اس سے میدانِ جنگ میں کسی کے مدّے مقابل نہیں ہوئے تھے اور نہ اُنکے پاس ڈھنگ کے ہتیار تھے مگر انہوں نے ریاستِ حیدرآباد کے یہ سودا قبول نا کیا اور اپنی ابتر جنگی حالت کے باوجود ہندوستانی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، بل آخر جو ہونا تھا رضا کاروں بھاری نقصان ہوا ہزاروں موت کے گھاٹ اُترے جو کچھ بچ گئے اُنہیں بہت کسم پرسی حالت سے دو چار ہوا پڑا، مرنے والے رضا کاروں کی تجہیز و تکفین نہ ہوسکی لاشیں جنگلوں میں سڑ گل گئیں، اسکے بعد بھی کئی سال تک مسلمانوں کو رضا کاروں کے نام سے موسوم کرکے بہت ستایا گیا اُنکی جائیداد جبراً لوٹی گئی اور معاشی نقصان پہنچایا گیا۔

اس نسل کشی کے آئینی شاہدوں میں سے ایک ایم۔اے۔عزیز انجنیئر صاحب بھی ہے جو ریاستِ حیدرآباد کے شہر ناندیڑ کے رہنے والے تھے اس بھیانک واقع کی منظر کشی انھوں نے اپنی کتاب ‘پولیس ایکشن’ میں کی وہ لکھتے ہے۔
"پولیس ایکشن سے ریاستِ حیدرآباد کے اضلاع کے مسلمان کو جن کرب ناک حالات سے گزرنا پڑا وہی ان سے واقف ہیں، جس میں مستورات کی بے حرمتی مسلمانوں کا قتل جائیداد کی لوٹ مار آتش زنی قید و بند، املاک پر زبردستی ناجائز قبضے وطن سے بے یارومددگار فرار، روزگار سے بے دخلی مکر و فریب غرض ہر قسم کے بربریت شامل ہے، اضلاع میں رہنے والےقریب 3 لاکھ مسلمان (سرکاری اکڑے کی مطابق) اس خونی سنگرام میں شہید کیئے گئے تھے شہر حیدرآباد میں رہنے والو کو اس تباہ کاری کا پتہ تب لگا جب ہزاروں مہاجرین شہر حیدرآباد میں اپنی جان و عزت بچا کر پُہنچے میں کامیاب ہوئیں اُنہوں نے اپنی اپنی داستانِ شہر والو کو سنائی، انجنیئر صاحب اُن دنوں جامعہ عثمانیہ کے طالبِ علم تھے اور حیدرآباد میں تعلیم حاصل کررہے تھے وہ لکھتے ہے کے جامعہ عثمانیہ کے ہاسٹل سکندرآباد کے قریب ہونے کی وجہ سے ہم طلباء روزآنہ ناشتے کے بعد سکندرآباد ریلوے اسٹیشن چلے جاتے، منماڑ ورنگل اور گلبرگہ کی جانب سے

انے والی گاڑیوں کی حالت زار بتاتی تھی کے مسلم مسافروں کے ساتھ کس قسم کا سلوک ہورہاتھا، پولیس ایکشن کے ایک آدھ ہفتہ تک اضلاع سے حیدرآباد انے والے مسلمانوں کا استقبال ریلوں میں لوٹ مار تشدد سے ہوتا رہا جسے ہم جامعہ کے طالبِ علم روزآنہ سکندرآباد اسٹیشن پر دیکھتے رہے اور کو کُچھ بن سکا مقدور بھر مدد کرتے رہے، بعد میں تشدد کی شکل شدید ترین ہوگئی، جالنہ، پربھنی، ناندیڑ، نظام آباد اور عادل آباد کی طرف سے انے والوں کو بولارم کے اسٹیشن پر اتار کر ان مسلمانوں کو لوٹ لیا جاتا اور پھر قطار میں کھڑے کرکے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا، ہاسٹل میں رہنے والے طلباء بھی اضلاع سے تھے اسلئے ہمیشہ فکرِ و تشویش رہتی کے کہیں ہمارے عزیز و اقارب تو اس کا شکار نہیں ہورہے ہیں،

پولیس ایکشن کے بعد ریاستِ حیدرآباد کے اضلاع میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی جو نسل کشی لوٹ مار اور خواتین کی عزتِ تار تار کی گئی اُسے اس وقت "جئے ہند” کا نام دیا گیا، اسٹیٹ کانگریس کے غنڈوں کی ٹولیاں با ضابطہ اس طرف توجہ کی ہوئی تھی کے کون کون سے گاؤں میں جئے ہند ہوا اور کہاں نہیں ہوا، جئے ہند کروانے کیلئے دوسرے گاؤں سے ولونٹیرز کے تبادلے ہوتے یہ ولنٹیرز اس وقت بہت سرگرم تھے بعد میں انہیں مکتی سنگرام کے مجاہدوں کا لقب ملا، مسلمانوں کی ہر چیز لوٹی گئی جان مال عزّت آبرو گھر دار جائیداد غرض جو ہاتھ لگا دل کھول کر لوٹا گیا جس گاؤں یا قصبہ میں مسلمانوں کے ایک دو گھر تھے وہ خاندان پورے کے پورے ختم کردیئے گئے جسکی داستان غم کہنے والا کوئی نہیں رہا۔

ناندیڑ شہر کے جئے ہند میں چوک بازار، صرافہ، قدیم بس اسٹینڈ اور سرکاری دواخانے وزیرآباد پر واقع تمام مسلمانوں کی دکانیں لوٹ لی گئیں اور بعد میں جلا دی گئی، عثمان شاہی میل کے مزدور جو رات بارہ بجے کی شفٹ سے واپس ہورہے تھے اُنہیں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا کئی جا بحق ہوئے اور کُچھ جان بچاکر زخمی حالت میں بھاگنے میں کامیاب ہوئے اس خونی سنگرام میں کتنے مسلمان شہید کیے گئے کوئی ریکارڈ نہیں کوئی ایف ائی ار نہیں کوئی شکایت درج نہیں ہوئی تھی، گرفتاریاں الگ سے ہورہی تھیں یہ گرفتاریاں دو طرح کی تھیں، ایک تو سابقہ افسران مجلس اتحاد المسلمین کے اراکین عہدہ دار اور رضاکاروں کو گرفتار کیا جارہا تھا، دوسری طرح کی گرفتاریاں ہندو حضرت کی دین تھی، پرانی دشمنی یا حسد کے بہانے انتقامی زہنیت کارگر تھی، ملٹری یا گورکھوں کے ذریعے ظلم جاری تھا، اسی طرح ناندیڑ کے چھوٹے چھوٹے گاؤں شیوڑی جاگیر، عثمان نگر، سون کھیڑ، کوٹھہ، کیولہ، ٹیلکی، قندھار، لوہا، وشنوپوری، ساور گاؤں، مدکھیڑ، حدگاؤ، نیوگھا، نائے گاؤں، بلولی، دھرما آباد، کرکھیلی، بھوکر، عمری، کونڈلواڑی میں قابل ذکر ہے جہاں 17 ستمبر کے بعد بذریعہ علان کہا گیا کے اب امن ہوگیا ہے لہٰذا اپنے اپنے ہتیار سرکار کے پاس جمع کرادیں، اس طرح مسلمانوں کو نہتّہ کیا گیا اور دوسرے ہی دن جئے ہند کیا گیا شیوڑی جو انجنیئر صاحب کی نانیال بھی ہے وہاں کے کئی خاندان بھاگ کر ناندیڑ شہر میں پناہ گزین ہوگئے جو رہ گئے تھے اُن کے خواتین کی عصمت ریزیا ہوئی اُنکی داستان لکھنا بہت ہی مشکل ہے, اس گھناؤنے عمل میں گاؤں کے بہت سے ہندو نوجوان ادھیڑ عُمر, اور عمر رسیدہ مرد بھی شامل تھے آبرو ریزی کا سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا اِن واقعات کا اِن پر ایسا اثر ہوا کے کُچھ دن بعد وہ فوت ہوگئیں۔

قصبہ دھارور ضلع ناندیڑ کی خونی داستان

اس خونی داستان کو دراصل محمّد اسمٰعیل خان صاحب مہتمم سرائے دھارور نے تحریر کیا ہے جو خود ان حالات کا شکار ہوئے اور شولاپور جیل میں کئی ماہ بغیر مقدمہ قید رہے، وہ لکھتے ہے "ہندی یونین کی فوج بروز دوشنبہ 20 ستمبر 1948 کو قصبہ دھارور میں داخل ہوئی اور پھر مسلمانوں کی گرفتاریاں اور قتل و غارتگری شروع کی گئی، فوج اپنے پورے جنگی ساز وسامان کے ساتھ جس میں فوجی گاڑیاں، توپیں، ٹینک، دبابے شامل تھے قصبہ کے باہر تعمیرات کے بنگلہ میں ٹھہری ہوئی تھی، قصبہ کے مسلمانوں کا قتل عام چند دن یعنی 14 اکتوبر 1948 بعد نمازِ عید الاضحٰی آغاز پر ہوا اس دن اور رات بھر چن چن کر مسلمانوں کو طرح طرح سے تکلیفیں دے کر مارا گیا، محمّد اسمٰعیل صاحب کی نوشتہ خونی داستان کل پندرہ صفحات پر مشتمل ہے یہاں اس کا خلاصۃ درج کیا گیا ہے اس وقت دھارور تعلقہ کیج ضلع بیڑ کا ایک بڑا گاؤں تھا دھارور سے کیج کوئی دس پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، کیج سے کلم نام کا ایک اور تعلقہ ہے جو ضلع عثمان آباد میں اتا تھا اور وہ کیج سے قریب سولہ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، کلم میں عثمان آباد میں ہونے والے قتل و غارت گری لوٹ مار کی خبر پہنچی تو کلم کے مسلمان سراسیمہ و خوف زدہ ہوکر کیج آگے، اس طرح کیج میں عثمان آباد کے پرانڈا تعلقہ کے بھی مسلمان اپنی جان بچانے کے لیے ائے، ان مسلم پناہ گزینوں کو کیج کے ہندؤوں نے کیج میں ٹھیرایا اور کھانے پینے کا بندو بست کیا، اس ہمدردی کے پیچھے یہ نیّت تھی کہ یہ لوگ کیج سے کہیں اور نہ جائیں، ان پناہ گزینوں میں کئی مالدار بھی تھے، انڈین آرمی کی نگرانی میں ان تمام کو لوٹ لیا گیا اور بعد میں تمام کو قتل کردیا گیا، ان مقتولوں کی لاشیں درگاہ قاضی مہذب الدین کے میدان میں پڑی رہی جو بعد میں کیج کے پٹیل نے ٹھکانے لگا دئیے۔

ہندؤوں کی ٹولیاں آگے پیچھے دھارور کے محکمہ تعمیرات ڈاک بنگلہ کے طرف اجارہی تھی اور ایک ایک مسلمان کو پکڑ کر ملٹری کے حوالے کررہی تھی کئی گرفتار شدگان کو قتل کردیا گیا کُچھ کو شولا پور جیل میں رکھا گیا کئی ماہ تک دھارور کے مسلمانوں کے مکان کھنڈر ہی رہے معصوم بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا قتل کردیئے گئے ہندو غنڈوں کی ٹولیاں آتی اور مسلمانوں کو پکڑ کر ملٹری کے حوالے کرتی، دوسری ٹولی آتی اور گھر والوں سے روپے پیسہ کا تقاضہ کرتی کے اگر تم اتنا دوگے تو تمہاری جان بچ جائیگی مگر روپیہ زیور لیکر بھی قتل کردیئے جاتے، مسلم خواتین کی عصمت ریزی کی الگ داستان ہے کُچھ خواتین عصمت دری کے ڈر سے فتح شاہ کی باولی میں کود کر اپنی جان دے رہی تھیں، ایک مسلمان شیخ لال کو ناک کاٹ کر گدھے پر گشت کرایا گیا اور بعد میں اس کا ایک ایک عضو کے کر ختم کردیا گیا، دھارور میں یہ قتل و خون دو مہینے سے بڑھ کر ہوتا رہا، اس اثناء میں عیدالاضحٰی ائی، عید کے روز دھارور کے 33 لوگوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر ذبح کیا گیا یہ کہتے ہوئے کے تم گائے اور بکری کی قربانی کرتے ہو ہم تمہاری قربانی کرتے ہے، ان میں گاؤں کا ایک قصاب سلیمان بھی تھا اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے جسم کا پوست چیہلا گیا اور بعد میں گلا کاٹا گیا دھارور کے ایک سو مسلمان قتل ہوئے اور باہر کے پانچ سو سے زیادہ پناہ گزین قتل کیئے گئے یہ صرف چند گاؤں کی تفصیل ہے جو مختصراً آپکے سامنے رکھی گئی ورنہ حیدرآباد ریاست کے ہر گاؤں قصبہ میں پولیس ایکشن کے بعد یہ لوٹ مار قتل گری عصمت ریزی ہوئی ہے مسلمانوں کا سبھ کُچھ دل کھول کر لوٹا گیا جسکی باز پرس پوچھ تاچھ کاروائی کُچھ نہیں ہوئی کیوں کے یہ لوٹ مار مکتی سنگرام مانی گئی اور اسکے لوٹرے مجاہد آزادی۔