ریاستی وزیر عبدالستا ر نے سپریہ سولے سے آخرکار معافی مانگ لی

589

اورنگ آباد:7نومبر ( ورقِ تازہ نیوز) چیف منسٹر ایکناتھ شندے دھڑے کے لیڈر اور ریاستی وزیر زراعت عبدالستار کی جانب سے این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے پر نچلی سطح کی تنقید کے بعد ریاست میں سیاست گرم ہوگئی ہے۔ این سی پی عبدالستار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ نیز، سیکڑوں این سی پی کارکنان ممبئی میں ستار کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر زبردست احتجاج کر رہے ہیں۔ اس ساری الجھن کے بعد بالآخر عبدالستار نے معافی مانگ لی ہے۔

عبدالستار نے کیا کہا؟ شندے گروپ کے ایم ایل اے کھوکا (رقم کا باکس )لینے پر اپوزیشن کی طرف سے تنقید کی جارہی ہے۔ اس پر عبدالستار نے کہا کہ جو لوگ ہمیں کھوکے لینے والے کہنےوالے بھکاری ہیں۔ اس وقت ستار نے سپریا سولے کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی ذکر کیا۔ ان کے اس بیان کی وجہ سے ریاست میں این سی پی کے حامی جارحانہ ہو گئے ہیں اور ستار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سپریا سولے کی نچلی سطح کی تنقید پر عبدالستار سے معافی مانگنے کامطالبہ کرتے ہوئے این سی پی میں کافی غصہ پایاجاتا ہے۔ اس مخالفت کو دیکھ کر ستار نے معافی مانگ لی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالستار نے کہا کہ میں نے کسی خاتون کی توہین نہیں کی۔ ہمارے ہاں اس قسم کا کلچر نہیں ہے۔ میرے جملے میں سپریا سولے کے بارے میں کوئی گندگی نہیں ہے۔ میں نے یہ لفظ ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جنہوں نے ہم پر تنقید کی۔ تاہم اگر کسی خاتون کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں