ریاستی حکومت اتر پردیش کے تمام غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کرے گی

499

لکھنؤ: اتر پردیش حکومت نے بدھ کے روز ریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بنیادی سہولیات کی حالت کی جانچ کی جاسکے۔ ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود دانش آزاد انصاری نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بنیادی سہولیات کی دستیابی کے سلسلے میں قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کی ضرورت کے مطابق ریاست کے تمام غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مدارس کے طلباء کے لیے فیصلہ کیا ہے۔ اسے جلد شروع کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سروے میں مدرسہ کا نام، اسے چلانے والے ادارے کا نام، مدرسہ نجی یا کرائے کی عمارت میں چل رہا ہے، مدرسہ میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد، پینے کا پانی، فرنیچر، بجلی کی فراہمی اور بیت الخلا شامل ہیں۔ اساتذہ کی تعداد، مدرسہ میں رائج نصاب، مدرسہ کی آمدنی کا ذریعہ اور کسی غیر سرکاری تنظیم سے مدرسہ کے الحاق سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ریاستی حکومت اس سروے کے بعد نئے مدارس کو تسلیم کرنے کا عمل شروع کرے گی،

وزیر نے کہا کہ فی الحال حکومت کا مقصد صرف غیر تسلیم شدہ مدارس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس وقت اتر پردیش میں کل 16,461 مدارس ہیں، جن میں سے 560 کو سرکاری گرانٹ دی جاتی ہے۔ ریاست میں پچھلے چھ سالوں سے نئے مدارس کو گرانٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔