ریاستوں سے حج کمیٹیوں کی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ نے مانگی

361

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے آج سبھی ریاستوں سے حج کمیٹی کی صورت حال پر مکمل رپورٹ طلب کی ہے۔ ساتھ ہی ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ تفصیلی جانکاری دو ہفتہ میں دیں۔ دراصل سپریم کورٹ سنٹرل حج کمیٹی کے سابق رکن حافظ نوشاد احمد اعظمی کی ایک عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں حج کمیٹی ایکٹ 2002 کے سخت ضابطوں پر عمل نہیں کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ضابطوں کے مطابق کمیٹیوں کی تشکیل میں بھی حکومتیں ناکام رہی ہیں۔اس عرضی پر سماعت جسٹس ایس اے نذیر اور جسٹس جے کے ماہیشوری کی بنچ کر رہی ہے۔ اس بنچ نے جمعہ کے روز ریاستوں سے حج کمیٹی کی جو تفصیل جمع کرنے کی ہدایت دی ہے، اس میں کمیٹی کے اراکین کے نام بھی بتانے کو کہا ہے۔

ریاستوں کو حلف نامے کے ساتھ جانکاری دینے اور کمیٹیوں کے لوگوں کے نام خاص طور سے بتانے کی ہدایت ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ ہدایت سینئر وکیل سنجے ہیگڑے کی دلیلیں سننے کے بعد دیں۔ عرضی دہندہ کی طرف سے ہیگڑے نے بنچ سے کہا کہ کئی ریاستوں نے تعمیل رپورٹ داخل نہیں کی ہے۔اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت سے حج کمیٹی ایکٹ 2002 کے تحت مرکزی و ریاستی سطحی حج کمیٹیوں کی تشکیل کو لے کر مرکزی حکومت سے جواب مانگا تھا۔ سپریم کورٹ نے مرکز، وزارت خارجہ، حج کمیٹی آف انڈیا اور دیگر سے چھ ہفتہ میں جواب مانگا تھا۔