میانمار کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی، جنھیں ملک میں فوجی بغاوت کے موقع پر حراست میں لے لیا گیا تھا، کو چار برس کی قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔فی الحال یہ ان کے خلاف آنے والا پہلا عدالتی فیصلہ ہے اور ان کے خلاف ابھی مزید مقدمات بھی زیر التوا ہیں جن میں انھیں عمر قید کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آنگ سان سوچی کو لوگوں کو حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور کورونا وائرس سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات میں سزا سنائی گئی ہے۔سوچی کو مجموعی طور پر 11 مختلف الزامات کا سامنا ہے، تاہم انھوں نے ان تمام الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

آنگ سان سوچی رواں برس فروری سے، جب ملک کی فوج نے بغاوت کر دی، اپنے گھر پر ہی نظر بند ہیں۔ فوج نے نہ صرف ان کی سویلین حکومت کا تختہ الٹا بلکہ ان کی جماعت کے متعدد رہنماؤں کو بھی حراست میں لے لیا۔ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آن سان سوچی کو جیل منتقل کر دیا جائے گا یا نہیں۔ان الزامات کی بنیاد پر آنگ سان سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کے اتحادی ون مینٹ کو بھی چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

میانمار کی نئی ’نیشنل یونٹی گورنمنٹ‘ ایک ایسا گروپ ہے جس میں جمہوریت پسند رہنما بھی شامل ہیں جو اس فوجی بغاوت کے مخالف ہیں۔ ان کے ایک ترجمان ڈاکٹر ساسا نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ آنگ سان سوچی ابھی مشکلات سے دوچار ہیں۔

ڈاکٹر ساسا کا کہنا ہے کہ ’ان (آنگ سان) کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ فوجی جرنیل ان کے لیے 104 برس کی جیل کی سزا سنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ جیل میں ہی مر جائیں‘۔فوج نے یہ الزام عائد کرتے ہوئے ملک کے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا کہ گذشتہ برس کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی۔ ان انتخابات آنگ سان کی پارٹی نمایاں برتری سے جیت گئی تھی۔

تاہم آزاد مبصرین کی رائے میں گذشتہ برس ہونے والے انتخابات بڑی حد تک صاف اور شفاف تھے۔اس فوجی بغاوت کے بعد ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہو گیا اور میانمار کی فوج نے جمہور نواز مظاہرین، کارکنا اور صحافیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی۔

ایمنسٹی کے ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر ’مِنگ یو ہا‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان جعلی الزامات پر آنگ سان سوچی کو سنائی گئی سخت سزائیں میانمار میں تمام اپوزیشن کو ختم کرنے اور آزادیوں کا گلا گھونٹنے کے لیے فوجی ارادوں کی تازہ ترین کاوش ہیں۔‘

آنگ سان سوچی کون ہیں؟
سوچی کو اپنے ملک میں جمہوریت کے حق میں آواز بلند کرنے پر کئی برس تک نظربند رہنے کی وجہ سے امن کا نوبیل انعام بھی مل چکا ہے۔وہ سنہ 1989 سے سنہ 2010 تک اپنے گھر میں نظر بندی کے عرصے میں فوجی آمریت کے خلاف عزم و استقلال کی علامت کے طور پر پہنچانی جاتی تھیں۔

سنہ 2012 میں جب سوچی کو نویبل انعام ملا تو انھوں نے ناروے کے شہر اوسلو میں ایک تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس نوبیل انعام نے دنیا کی توجہ میانمار میں ہونے والی جدوجہد کی طرف مبذول کروائی ہے۔

اس موقعے پر انھوں نے انسانی حقوق سے متعلق عالمی قرارداد سے اپنا پسندیدہ پیراگراف پڑھنے سے پہلے کہا کہ ‘برما میں بہت سی لسانی قومیتوں اور عقائد کے ماننے والے آباد ہیں اور اس کا مستقبل اصل اتحاد سے ہی مل سکتا ہے۔’

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ دنیا میں بے گھر، نقل مکانی کرنے والے اور بے یار و مدد گار افراد نہ ہوں اور دنیا کے ہر کونے کے مکین مکمل آزادی اور امن کے ساتھ زندگی گزاریں۔

یہ سوچی کے الفاظ ہیں جو کہ کئی برس تک دنیا میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں میں ایک ہیروئین کے طور پر موجود تھیں۔

آنگ سان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) نے سنہ 2015 کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کی۔ مگر انھیں ان ملکی قوانین کے تحت صدر بننے سے روک دیا گیا، جن کے مطابق غیرملکی شہریت کے حامل بچوں کا والد یا والدہ یہ عہدہ نہیں رکھ سکتے۔ انھیں ملک کا حقیقی حکمران ہی سمجھا جاتا تھا۔

تاہم سنہ 2017 میں روہنگیا بحران کو جس طرح انھوں نے مؤقف اختیار کیا اس پر بیرون ملک ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔

سنہ 2019 میں وہ اپنے ملک کے خلاف نسل کشی کے الزامات کے دفاع میں اقوام متحدہ کی عالمی عدالت انصاف کے سامنے بھی پیش ہوئیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔