روس پر الزام ہے کہ اس نے یوکرین میں کلسٹر بم استعمال کیے ہیں اور انٹرنیشنل کریمینل کورٹ (جرائم کی عالمی عدالت) نے مبینہ جنگی جرائم کے حوالے سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ہم نے اس حوالے سے ایک مخصوص حملے کے شواہد کو جانچنے کی کوشش کی ہے۔

28 فروری کو انڈری (فرضی نام) خارخیو کے شہر میں اپنے فلیٹ میں نہا رہے تھے جب انھیں باہر شدید دھماکوں کی آواز آئی۔‘میں نے خود کو جلدی سے خشک کیا، کانپتے ہوئے زمین پر لیٹ گیا اور مجھے شیشے ٹوٹنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔‘ان کے فلیٹ کی کھڑکی ٹوٹ گئی اور جیسے ہی انھوں نے باہر دیکھا تو لوگ سڑک پر پڑے تھے۔ ان میں سے کم از کم ایک ہلاک چکا تھا۔ یہ سب لوگ گلی میں ایک نلکے کی قطار میں لگے تھے جہاں دس منٹ پہلے انڈری خود کھڑے تھے۔خارخیو کے مئیر نے بعد میں تصدیق کی کہ اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی نے اس حملے کی فوٹیج کا جائزہ لیا ہے اور عینی شاہدین اور ماہرین سے بات چیت کی ہے تاکہ اس حملے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جائیں۔ یہ حملہ ان حملوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں الزام لگایا جا رہا ہے کہ ان میں کلسٹر بم استعمال کیا گیا تھا۔اس واقعے کی خبر ٹوئٹر پر مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 6 منٹ پر شائع کی گئی۔ ایک ویڈیو میں دھماکہ اور کالے دھوئیں کے بادل نظر آ رہے تھے۔

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد ایک اور ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں لوگوں کو زمین پر بے حس و حرکت پڑے دیکھا گیا۔

کچھ اہم فیچرز کی مدد سے، جیسے کہ پانی کا نلکا اور موچی کی دکان، ہم یہ پتا چلا سکے ہیں کہ یہ واقعہ خارخیو کے شمال میں پیش آیا تھا۔ اس دن اس علاقے میں روسی شیلنگ کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

ہمیں مزید فوٹیج بھی بھیجی گئی ہے جو کہ دن کے تقریباً اسی وقت بنائی گئی تھی، مگر گلی کے دوسری طرف سے۔ 23 سرپنیا لین نامی اس گلی کا نام اس دن کی تاریخ پر رکھا گیا ہے جب 1943 میں خارخیو کو نازی جرمنی سے آزاد کروایا گیا تھا۔

12:45 کی ٹائم سٹیمپ کے ساتھ یہ فوٹیج ایک گاڑی کے اندر سے بنائی گئی تھی جو کہ جائے وقوعہ کی جانب جا رہی تھی۔ 23 سرپنیا لین میں اس روز متعدد دھماکے ہوئے تھے۔

جنگ میں کلسٹر بموں کا استعمال
ہم نے یہ فوٹیج ہتھیاروں کے چار ماہرین کو دکھائی۔ ان میں سے ایک عسکری امور پر کام کرنے والے تھینک ٹینک رائل یونائیٹڈ سروسز سے منسلک محقق سام کرینی ایونز تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ گاڑی سے بنائی گئی فوٹیج میں دیکھا جانے والا منظر کلسٹر بم حملے سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ’ایک چھوٹے سے علاقے میں متعدد چھوٹے بم پھٹے ہیں‘۔

کلسٹر بم ایسے راکٹ یا میزائل ہوتے ہیں جن کے اندر بہت سارے چھوٹے چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں اور جب وہ گرتے ہیں تو تمام چھوٹے بموں سے متعدد دھماکے ہوتے ہیں۔ہتھیاروں سے متعلق انٹیلیجنس ماہر پیٹ نورٹن بھی اس تجزیے سے متفق ہیں کہ جو شواہد ملے ہیں وہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ کسی قسم کے کلسٹر بم کو استعمال کیا گیا ہے۔ انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ویڈیو میں جو دھماکے ہیں وہ قدرے چھوٹے تھے۔