روس کا ایک بڑا فوجی قافلہ اس وقت یوکرین کے دارالحکومت کے قریب ہے جس کی لمبائی 40 میل یعنی (64 کلومیٹر) بتائی جا رہی ہے۔ تاہم برطانوی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ تین دنوں میں اس قافلے نے نہ ہونے کے برابر پیش قدمی کی ہے۔

تاہم امریکی دفاعی حکام کہتے ہیں کہ روس کا اب بھی یہ ارادہ ہے کہ اگر ضروری ہو تو وہ محاصرے کے حربے کو استعمال کر کے اس شہر جس میں 30 لاکھ افراد بستے ہیں کا گھیراؤ کرے اور اس پر قبضہ کر لے۔

حالیہ سیٹیلائٹ تصاویر میں روسی قافلے کے حجم کو دیکھ کر یہ خدشات بڑھ گئے تھے کہ یہ حملہ جلد ہی کیا جائے گا۔

مگر برطانوی اور امریکی حکام کے دعوے ہیں کہ لاجیسٹیکل مسائل کی وجہ سے مزید پیش قدمی سست ہو سکتی ہے۔

جمعرات کی صبح آنے والی اپ ڈیٹ کے مطابق برطانوی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس قافلے نے تین روز کے دوران بہت کم پیش قدمی کی ہے اور یہ اب کیئو سے 30 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر موجود ہے۔

اس کی وضاحت بہت سی وجوہات کے ذریعے ہو سکتی ہے کہ اس قافلے کی کیئو کی جانب پیش قدمی آخر رکی کیوں جس میں بکتر بند گاڑیاں، ٹینک اور توپیں شامل ہیں۔

اس میں لاجسٹیکل مسائل، یوکرین کی جانب سے غیر معمولی مزاحمت اور روسی فوجی دستوں میں حوصلے کی کمی شامل ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق لاجسٹیکل طور پر نقل و حرکت ختم ہو جانے اور ایک جگہ پر بھیڑ ہو جانے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

خوراک اور ایندھن کی سپلائی کم ہے اور اطلاعات ہیں کہ گاڑیوں کے پہیوں کی اچھی کوالٹی نہ ہونا یا ان کی درست طریقے سے مرمت نہ ہونا بھی ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔

جمعرات کو بی بی سی کے ریڈیو فور پروگرام میں برطانوی جوائنٹ فورس کے سابقہ کمانڈر سر رچرڈ بیرنز نے کہا کہ ’ایندھن، خوراک، سپیئر پارٹس اور پہیوں کے مسائل کے باعث نقل و حمل میں بہت مسائل کا سامنا ہے۔۔۔۔ وہ مٹی میں پھنس گئے ہیں، اور ایسے کہ اس سے گاڑیوں کا ہلنا مشکل ہو گیا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کے مسائل بھی ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ریڈیو نیٹ ورک کی خرابی اور اوپن نیٹ ورک پر کمیونیکشن یعنی رابطوں میں ممکنہ طور پر بڑے مسئلے ہو سکتے ہیں۔‘

پینٹاگون کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ روس کو لاجسٹیکل مسائل ہیں اور اس نے جان بوجھ کر دوبارہ سے صف بندی اور دوبارہ منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ’خاطر خواہ پیش قدمی کیوں نہیں کی جا سکی اور کیسے جلد از جلد یہ فاصلہ طے کیا جائے۔‘

پینٹاگون کے مطابق یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یوکرین کی جانب سے کی جانے والے مزاحمت بھی روسی فوج کی پیش قدمی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

اگرچہ یہ دیکھا گیا ہے کہ آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق مکمل طور پر ممکن نہیں۔

اس قافلے کے آگے نہ بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی دی جا رہی ہے کہ توقع کے برعکس یوکرینی مزاحمت بھی روسی فوج پر اثر پڑنے کا باعث ہو سکتی ہے۔

الیگزینڈر ڈینے لیوک جو کہ یوکرین کی نیشنل سکیورٹی اینڈ ڈیفینس کونسل کے سابق سیکریٹری ہیں نے بی بی سی سے گفتگو میں یوکرین کی فوج کی جانب سے اپنے دارالحکومت کا دفاع کرنے کے جذبے سے روسی فوج کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس قافلے میں بیٹھے لوگوں کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

منگل کو امریکی دفاعی حکام نے رپورٹرز کے سامنے دعویٰ کیا کہ روسی فوج میں مورال یعنی لڑنے کے حوصلے کے حوالے سے مسائل کے آثار دیکھے گئے ہیں اور ایسے افراد میں ایک بڑی تعداد نئے بھرتی ہونے والے سپاہیوں کی ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ’ان میں سے اکثر کو تو اس بات کا علم بھی نہیں تھا کہ انھیں جنگی آپریشن کے لیے بھجوایا جا رہا ہے۔‘