روس کے خفیہ جنگی دستاویزوں سے پتہ چلا ہے کہ یوکرین کے ساتھ ماسکو کے جنگی منصوبے کو 18 جنوری کو ہی منظوری دے دی گئی تھی۔ یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ قبضہ 20 فروری سے 6 مارچ تک 15 دنوں کے اندر ہو جائے گا۔

دراصل بدھ کے روز ایک فیس بک پوسٹ میں یوکرین کے جوائنٹ فورسیز آپریشنز کمانڈ نے کہا کہ ’’یوکرین کے مسلح افواج کی یونٹس میں سے ایک کی کامیاب کارروائیوں کے سبب روسی نہ صرف سامان و اسلحے گنوا رہے ہیں، بلکہ گھبراہٹ میں وہ خفیہ دستاویزات بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس طرح ہمارے پاس روسی ایسو سی ایشن کے بحر اسود بیڑے کے مرین کے 810ویں الگ بریگیڈ کے بٹالین گروپ کی یونٹس میں سے ایک کی منصوبہ بندی سے متعلق دستاویز ہیں۔‘‘

یوکرین کے جوائنٹ فورسز آپریشنز کمانڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’موصولہ جانکاری کی بنیاد پر یہ معلوم ہوا ہے کہ یوکرین کے ساتھ جنگ کے لیے منصوبہ کے دستاویزات کو 18 جنوری کو منظوری دی گئی تھی، اور یوکرین پر قبضہ کرنے کا آپریشن 15 دنوں کے اندر ہونا تھا، یعنی منصوبہ کے مطابق یوکرین پر 20 فروری سے 6 مارچ تک فتح حاصل کرنے کا ہدف تھا۔‘‘