روس کا یوکرینی دارالحکومت پر50 سے زیادہ کروز میزائلوں سے حملہ،بجلی کا نظام درہم برہم

248

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن پیر کے روز ایک نئے دن جاری ہے، جب کہ روسی فوج کے یونٹ یوکرین کے علاقوں پر مکمل کنٹرول بڑھانے اور کییف فورسز کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب یوکرینی فورسز مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ کھوئے ہوئے علاقوں پر قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین کو روس کے خلاف مزاحمت میں امریکا اور مغرب کی مادی اور فوجی مدد بھی حاصل ہے۔

تازہ ترین پیش رفت میں یوکرین نے کہا کہ روس نے 50 سے زائد میزائلوں سے کئی شہروں کو نشانہ بنایا۔ یوکرینی فوج نے ملک میں 50 سے زیادہ کروز میزائل” فائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔ یوکرین کی فضائیہ نے ٹیلی گرام پر کہا ہے کہ شمالی بحیرہ کیسپین اور روس کے روسٹوو کے علاقے سے Tu-95s اور Tu-160s سے 50 سے زیادہ X-101/X-555 کروز میزائل طیارے سے فائر کیے گئے۔

یوکرینی ایوان صدر نے اطلاع دی کہ کئی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر "بڑے پیمانے پر روسی حملہ” ہوا ہے۔ مقامی حکام نے رہائشیوں سے فضائی بمباری کی وارننگ ختم ہونے تک پناہ گاہوں میں رہنے کی اپیل کی ہے، جبکہ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہر میں سلسلہ وار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

یوکرین کے صدارتی مشیر کیریلو تیموشینکو نے کہا ہے کہ روسیوں نے ایک بار پھر کئی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ فضائی دفاع نے کچھ میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ دیگر نے ہدف کو نشانہ بنایا۔

اس سے پہلے اے ایف پی نے اطلاع دی تھی کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یوکرین کے دارالحکومت میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8:00 سے 08:20 کے درمیان کم از کم 5 دھماکے سنے گئے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بھی ملک کے مرکز میں کییف اور دیگر علاقوں میں فضائی حملوں کی وارننگ جاری کرنے کی اطلاع دی ہے۔شہر کے میئر نے روسی حملوں کے بعد کییف کے محلوں میں بلیک آؤٹ کا اعلان کیا ہے۔ روسی بمباری سے بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ دارالحکومت میں پاور ٹرانسمیشن سینٹر بمباری سے متاثر ہوئے ہیں۔