روس میں ہم جنس پرستی مکمل طورپر ممنوع

289

ماسکو: صدر پوتن کے حکم پر دستخط کرنے کے بعد روس میں ہم جنس پرستی کے پروپیگنڈے کو مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا۔ روسی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پیر کو ایک قانون پر دستخط کیے ہیں، جس میں ’ایل جی بی ٹی پروپیگنڈے‘ کے فروغ پر روس کی پابندیوں میں توسیع کی گئی ہے، اس قانون کے ذریعے روس میں ایل جی بی ٹی رویے یا طرز زندگی کے کسی بھی عوامی اظہار کو مؤثر طریقے سے غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔

’ایل جی بی ٹی پروپیگنڈہ‘ کے حوالے سے اس نئے قانون نے روس کی تشریح کو وسیع کر دیا ہے، اب اس سلسلے میں کسی بھی کارروائی یا کسی بھی معلومات کو پھیلانے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، ان میں عوامی، آن لائن، یا فلموں، کتابوں یا اشتہارات میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوشش شامل ہے۔پوتن نے غیر روایتی جنسی تعلقات، صنفی تفویض (جنس تبدیل کرنا) اور پیڈوفیلیا (بچوں کے ساتھ بدفعلی) کے پروپیگنڈے پر مکمل پابندی کے قانون پر دستخط کر دیے۔

اس حکم نامے کے مطابق روسی قانون میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن پروٹیکشن کے قانون اور دیگر دستاویزات میں ترامیم کی گئی ہیں، نئے قانون کے تحت اب سوشل نیٹ ورکس، ذرائع ابلاغ، فلموں اور اشتہارات میں ہم جنس پرستی کا پروپیگنڈہ مکمل طور پر ممنوع ہے۔اس قانون میں ایک ایسی شق بھی شامل ہے جو نابالغان میں مندرجہ بالا سے متعلق معلومات پھیلانے پر پابندی عائد کرتی ہے، اب تک یہ پابندی صرف ایل جی بی ٹی سے متعلق مواد پر لاگو ہوتی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نابالغان کے لیے معاوضے والی سائٹس پر ایل جی بی ٹی سے متعلق معلومات تک رسائی کو روکنے کے لیے ایک طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا، ایسی ویب سائٹس میں داخل ہونے کے لیے خصوصی کوڈز یا دیگر اقدامات ضروری ہوں گے۔مذکورہ قانون کے تحت روس میں ہم جنس پرستی سے منسلک سامان کی فروخت پر بھی پابندی ہوگی، بشمول درآمد شدہ سامان۔ روس میں اس طرح کا پروپیگنڈا پہلے صرف نابالغوں میں ممنوع تھا، اب اس پابندی کا اطلاق ہر عمر کے لوگوں پر ہوگا۔