روس ایران تعلقات گہرے ہو رہے، اسرائیل تشویش میں ہے: واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ

97

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے خبردار کیا ہے کہ روس ایران تعلقات گہرے ہو رہے ہیں، تعلقات میں گہرائی کا اظہار حال ہی میں یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے دوران واضح ہوا ہے۔ یہ صورت حال اسرائیل کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے۔واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے ایک تجزیاتی مضمون میں کہا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں امریکہ اور برطانیہ کے حکام نے دیکھا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان فوجی تعلقات گہرے ہو رہے ہیں۔

16 دسمبر کو سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے اس صورتحال کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو ابھر رہا ہے وہ کم از کم روس اور ایران کے درمیان مکمل دفاعی شراکت داری کا آغاز ہے، اس شراکت داری میں ایرانی روسیوں کو ڈرون فراہم کر رہے ہیں اور روسی ان طریقوں کے بارے میں سوچنا شروع کر رہے ہیں جن سے وہ ٹیکنالوجی میں اور تکنیکی طور پر ایرانیوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔ یہ پیشرفت ایران کے پڑوسی ممالک کے لیے حقیقی خطرہ ہے ۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ ولیم برنز کی طرف سے کی گئی تشخیص درست ہے۔ پیش رفت خاص طور پر اسرائیل کے لیے خطرہ ہے۔ روس کا فوجی امداد کے لیے ایران پر اچانک انحصار کا اچانک بدلا چکایا جائے گا جس سے اسرائیلی فیصلہ سازوں کو ہوشیار اور تیار رہنا چاہیے۔ یہ یقینی ہے کہ روس کئی طریقوں سے ایسا جواب دے گا جس سے ایران کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے۔
روس ایران فوجی تعلقات
جب سے روس نے گزشتہ فروری میں یوکرین میں اپنا فوجی آپریشن شروع کیا تھا، تہران حکومت نے ماسکو کو سینکڑوں ڈرون فراہم کیے ہیں۔ حالیہ رپورٹس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایران روس کو جدید مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سے روس کو ایرانی ڈرون اپنی پروڈکشن لائن قائم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ آج تک، روسی افواج نے ایرانی ہتھیاروں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔
یاد ر ہے روس اور ایران نے برسوں سے اپنے تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ ان تعلقات میں عسکری اور اقتصادی شعبے بھی شامل ہیں۔ یہ سب اس کے باوجود ہے کہ کئی معاملات میں دونوں ملکوں کے مفادات مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں ہیں۔ چونکہ دونوں ملک طویل عرصہ سے عالمی سطح پر امریکی کردار محدود کرنے کے خواہاں ہیں لہذا کئی معامات میں مفادات مختلف ہونے کےباوجود دونوں میں عسکری اور اقتصادی تعاون بھی جاری ہے۔

تہران کو ماسکو کا ممکنہ تحفہ
ایرانی ڈرونز کی مدد کے کے جواب میں روس بنیادی طور پر فضائی دفاعی نظام فراہم کر کے ایران کی فوجی ہارڈویئر کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر بہتر کر سکتا ہے۔ ایران اس خواہش کا اظہار بھی کر چکا ہے لیکن روس ماضی میں اس حوالے سے انکار کر چکا ہے لیکن "واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ” کے اس حالیہ مضمون کے مطابق روس کی جانب سے اس درخواست پر رضامندی کا امکان اب بڑھ گیا ہے۔اگر ایران روس سے جدید فضائی دفاعی نظام حاصل کرتا ہے تو تہران حکومت اپنے جوہری انفراسٹرکچر یا دیگر اسٹریٹجک تنصیبات پر مستقبل میں کسی بھی ممکنہ حملے کو ناکام بنانے کے لیے بہتر طور پر لیس ہوگی۔ روس کی جانب سے ایران کو سخوئی ایس یو 35 جیسے جدید طیارے ملنے کا بھی امکان ہے۔

تاہم صرف ملٹری ہارڈویئر پر توجہ کرنے سے اسرائیل اور ایران کے درمیان دیگر شعبوں میں بڑھتے تعلقات کے خطرات سے توجہ ہٹ بھی سکتی ہے۔ ان میں سرفہرست یہ بات ہے کہ انٹیلی جنس کے شعبہ میں روس کے پاس فوٹو گرافی کی انٹیلی جنس اور سگنلز انٹیلی جنس دونوں میں ترقی یافتہ صلاحیتیں ہیں، اور وہ ایران کو ایسی صلاحیتیں فراہم کر سکتا ہے، یا حساس انٹیلی جنس معلومات کا اشتراک کر سکتا ہے ۔
ممکنہ سائبر حملے
سائبر ڈومین تشویش کا ایک اور ذریعہ ہے۔ ایران کے پاس پہلے ہی سائبر صلاحیتیں کافی موجود ہیں۔ اور اس نے انہیں غیر ملکی حکومتوں کے خلاف استعمال کرنے پر آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔ روس جو ایک سائبر سپر پاور ہے ایرانی ہیکرز کو حساس اہداف کے خلاف مزید جدید ترین حملے شروع کرنے کے بارے میں بہت کچھ سکھا سکتا ہے۔

کچھ اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ نئے وزیر اعظم نیتن یاہو کے پوتین کے ساتھ تعلقات ان خدشات کو دور کر سکتے ہیں۔ ان کے نظریہ کے مطابق روس کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے اسرائیل اور ایران کے درمیان طاقت کا توازن بڑی حد تک تبدیل ہو جائے۔ وہ ایسا اس ڈر سے کرے گا کہ کہیں اس سے روس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچے یا اسرائیل یوکرین کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے پرآمادہ ہوجائے۔تاہم اس نظریہ میں روس اور ایران کے درمیان تعلقات میں بنیادی تبدیلی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ تہران ماسکو میں ایک بڑی پوزیشن سے لطف اندوز ہو رہا ہے، یہ ایسی تبدیلی ہے جو یوکرین کی جنگ جاری رہنے کی صورت میں برقرار رہے گی ۔مضمون کے مطابق مستقبل قریب میں ایران کو روس کی طرف کچھ ملے گا۔ اور روس کے پاس اس احسان کو واپس کرنے کے بہت سے راستے ہوں گے، جس سے اسرائیل کو پریشان ہونا چاہیے۔