عمانی سلطان کاروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف سے یوکرین بحران اور باہمی تجارت پر تبادلہ خیال

مسقط : خلیجی سلطنت عْمان کے سلطان ہیثم بن طارق السعید نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف سے ملاقات میں اس بات پرزوردیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں بین الاقوامی قانون وضوابط کی پاسداری کی جائے۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لافروف بدھ کو عمان کے سرکاری دورے پر مسقط پہنچے تھے۔انھوں نے عْمانی سلطان سے یوکرین تنازع، دوطرفہ تجارت اور نقل مکانی سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے دو طرفہ معاہدوں کے وسیع تر پیکج پر اتفاق کیا ہے اورباہمی ویزا استثنا پروگرام کااعلان کیا ہے۔او این اے کے مطابق سلطان ہیثم نے روسی وزیرخارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیف اورماسکو پرزوردیا کہ وہ بات چیت کے ذریعے بحران کے ایسے سیاسی اور سفارتی حل تک پہنچنے کی کوششیں تیزکریں جودونوں ممالک اور عوام کی آزادی، خودمختاری اور مضبوط بقائے باہمی کے تحفظ کو یقینی بنائے۔انھوں نے فلسطین اوراسرائیل کے درمیان جاری تنازع پر بھی بات چیت کی ہے۔لافروف نے اس دیرینہ تنازع کے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی اہمیت پرزوردیا۔انھوں نے عْمان کے سربراہ کو صدرولادی میر پوتین کا نیک خواہشات پرمبنی پیغام بھی پہنچایا ہے۔انھوں نے شام کی عرب لیگ میں واپسی کے ضمن میں روس کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین ہے،عْمان اس مقصد میں سفارتی مدد کرسکتا ہے۔شام کو 2011 میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعدعرب لیگ کی نشست سے محروم کردیاگیا تھا اور تب سے اس کی رْکنیت معطل ہے۔روس شام میں جاری بحران میں بشارالاسد کی حکومت کے اہم پشتیبانوں میں سے ایک ہے۔روسی وزیرخارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کومضبوط بنانے پر بھی بات چیت کی ہے۔روس کی خبررساں ایجنسی تاس کی رپورٹ کے مطابق 2016 کے بعد خلیجی سلطنت کاان کا یہ پہلا دورہ ہے۔لافروف نے عْمان کے سلطان کے علاوہ متعددعہدے داروں سے بھی ملاقات کی اوروزیرخارجہ سیّد بدربن حمدالبوسعیدی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔البوسعیدی نے کہا کہ ’’عْمان یوکرین کی صورت حال پر گہری نظررکھے ہوئے ہے اور تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے اختلافات کو پْرامن طریقے سے طے کریں‘‘۔