ممبئی : ریاست مہاراشٹر میں مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے کے ذریعے 3 مئی تک مساجد سے لاؤڈ اسپیکر کو ہٹانے کے دھمکی بھرے مطالبے کے بعد ریاستی حکومت نظم و نسق کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے کے لئے متحرک ہو گئی ہے۔ ریاستی وزارت داخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے واضح کیا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد اور فساد برپا کرنے کی سازش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے رمضان کے بعد ریاست میں کسی بھی طرح کے تشدد کے امکان کو خارج کر دیا۔

وزیر داخلہ مہاراشٹر دلیپ ولسے پاٹل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر کوئی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی، خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا سیاسی جماعت سے وابستہ کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں نظم و نسق کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس الرٹ پر ہے۔ مہاراشٹر میں مذہبی منافرت پھیلانے والوں پر سخت کارروائی کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کو لے کر ریاستی سرکار ایک دو دن میں سرکلر بھی جاری کرے گی۔ نیز ریاست کے حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے ریاست کے ڈی جی پی اور ممبئی کے پولس کمشنر سے لاؤڈ اسپیکر کے مسئلہ پر میٹنگ کی اور صورت حال کا جائزہ لیا۔

دریں اثنا، مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل نے منگل کو اس بات کی تردید کی کہ ریاست میں جاری رمضان کے بعد فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑنے کا کوئی امکان ہے۔ایک سوال کے جواب میں پاٹل نے کہا، ’’کچھ پارٹیاں ریاست میں فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ریاست میں فسادات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ تاہم، پولس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔” انہوں نے نام لیے بغیر اس بات کا اعادہ کیا کہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کرے گی جو فرقہ وارانہ تصادم کو ہوا دے اور ایسے گروہوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔والسے پاٹل نے مزید کہا کہ یہ کوششیں مہنگائی، بے روزگاری، سرحدی صورتحال جیسے سلگتے ہوئے مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ہیں اور پولیس کی طرف سے ایسی کوششوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔