حنا خان (آکولہ)
الحمدللہ کچھ ہی دنوں میں ہم پر رحمت و برکت کا سایہ فگن ہونے والا ہے۔ ایک بار پھر سے ہماری زندگیوں میں ماہ رمضان آنے والا ہے۔ پچھلے دو سالوں کے رمضان کیسے اور کن حالات میں گذرے یہ تو سبھی جانتے ہیں۔خیر ایک بار پھر سے اللہ رب العالمین موقع دے رہا ہے کہ اس کو راضی کیا جائےاور ماہ رمضان کی رحمتوں و برکتوں کو سمیٹا جائے۔
یہ سنہرا موقع کسی جاب کو حاصل کرنے کا نہیں، کسی اسکالر شپ کو پانے کا نہیں،کسی سستی سیل کےحصول کا نہیں، کسی بادشاہ کو خوش کرنے کا نہیں ،بلکہ یہ موقع بادشاہوں کے بادشاہ کو راضی کرنے کا ہے کہ جس کی خوشی دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضامن ہے۔
کسی خاص مہمان کے آنے پر کتنی تیاریاں ہوتی ہیں؟ گھر کی صفائیاں کی جاتی ہیں، انواع واقسام کے پکوان پکائے جاتے ہیں ، ہر طرح سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ اس کی خاطر مدارات میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے، جب ایک معمو لی انسان کے لیے اتنا کچھ کیا جاتا ہے تو کیا ہمارا رب یہ حق نہیں رکھتا کہ اس کو راضی رکھنے کے لیے بھی اسی طرح کی کوششیں کی جائیں ؟

بالکل ،بلکہ انسان پر سب سے پہلا اورسب سے زیادہ حق اس کے رب کا ہی ہے کیونکہ اسی نے اسے وجود بخشا ہے، اسی لیے انسان پر اللہ رب العالمین کا حق ہے کہ وہ رب کو راضی رکھتے ہوئے زندگی بسر کرے اور اسی سے ڈرے ۔اللہ رب العالمین کا احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی جسمانی ونفسانی تربیت کے لیے ایک ماہ عطا کیا ہے جس میں خلوص دل سے حاصل کی گئی تربیت بقیہ گیارہ مہینوں میں مددگار ثابت ہوتی ہے ۔اللہ رب العالمین نے بندوں کو تقویٰ سکھانے کے لیے اس پر ماہ رمضان کے روزوں کو فرض قرار دیا ۔
قرآن مجید میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے :’’اےایمان والوں! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے فرض کیے گئے تھے،اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہو‘‘۔(سورہ بقرہ :182)
جس طرح ماہ رمضان میں انسان پر تقوی کا ایسا رنگ چڑھا ہوتا ہے کہ وہ شدید بھوک اور پیاس میں بھی کھانا اور پانی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا ٹھیک اسی طرح بقیہ ماہ میں بھی اس سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دنیا میں ہر ناجائز کاموں سے پرہیز کرے، جس طرح وہ ’’روزہ ضائع نہ ہوجائے‘‘ اس ڈر سے جھوٹ، غیبت،چغلی جیسے گناہوں سے شعوری طور پر بچتا ہے اسی طرح وہ بقیہ گیارہ ماہ بھی اپنے آپ کو ان اعمال سے روکے رکھے اور کسی کام کو انسان اسی وقت کامیابی سے کرپاتا ہے جب اس نے اس کی اچھی طرح تربیت حاصل کی ہو۔ لہذا تربیت کے اس ماہ کاعزم وحوصلہ اورجوش وخروش سےاستقبال کیجئے، خوش آمدید کہئے۔

کچھ طریقوں پر عمل کرکے آپ اس ماہ کی مبارک گھڑیوں کو اچھی طرح گذار سکتے ہیں:
جسمانی و ذہنی تیاری :
’’تندرستی ہزار نعمت ہے‘‘انسان اگر جسمانی طور سے تندرست ہو تو وہ ہر کام کو بخوبی انجام دے سکتا ہے ۔ لیکن بیمار اور لاغر جسم کے ساتھ وہ کوئی کام اچھی طرح انجام نہیں دے سکتا، خواہ وہ عبادت ہی کیوں نہ ہو۔لہذا اپنی جسمانی صحت پر بھی توجہ دے ۔ غذائیت سے بھر پور چیزوں کا استعمال کرے، رمضان شروع ہونے سے پہلے روٹین چیک اپ کروالے، کھانے کے اوقات میں تبدیلی لائے ،نیند میں کمی کی جائے، ذہن میں اس بات کو بٹھالیں کہ آپ کو اس ماہ مبارک کی رحمتوں و برکتوں کو خوب سمیٹنا ہے۔جب آپ شعوری طور پریہ سب کریں گے تو انشا اللہ آپ کا جسم و ذہن آپ کا ساتھ دے گا ۔
توبہ و استغفار :
اس ماہ مبارک کے شروع ہونے سے پہلے بھی اور دوران بھی اپنے رب کے حضور گریہ وزاری کرے اپنے کئے گئے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی معافی مانگے، توبہ و استغفار سے خود کو پاک کرتے جائے،تاکہ عبادات کابہتراندازسے لطف لے سکے ۔
غیر اہم و غیر ضروری کاموں سے اجتناب:
جتنا ممکن ہو اپنی لسٹ سے غیر اہم و غیر ضروری کاموں کو نکالنا کرنا شروع کردے،اس میں تمام ایسے کاموں کو نکال دے جن کا ابھی اور رمضان میں کرنا ضروری نہیںاور زیادہ سے زیادہ عبادت کے لیے اپنا وقت مختص کرے۔
دل کی صفائی :

رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے اپنے گھر کے ساتھ دل کی بھی صفائی لازمی کرے۔ دل میں کسی کے لیے بغض، کینہ، حسد وغیرہ ہو تو اسے نکال دے ۔ آپ کسی سے ناراض ہو ںیا کوئی آپ سے ناراض ہو تو آپس کی غلط فہمیاں دور کرکے صلح کرلیں۔ اپنے دل کو ان تمام چیزوں سے خالی کریں تاکہ اس میں اللہ رب العالمین کی محبت اور نیک خیالات داخل ہوسکے۔

نمازوں میں بہتری:

’’نماز دین کا ستون ہے ‘‘اور اگر ستون ہی کمزور رہا تو عمارت کی پائیداری کا بھروسہ نہیں کرسکتے۔ اسی لیے اپنی نمازوں کی طرف خصوصی توجہ دیں ،اسے درست کریں جہاں جو غلطی ہو اسے سدھار لیں۔رکوع و سجود اطمینان سے کریں، دلی آمادگی کے ساتھ اور ترجمہ کو دہراتے ہوئے نماز ادا کریں ۔

سوشل میڈیا سے دوری :

موجودہ دور کا ایک سب سے بڑا فتنہ سوشل میڈیا ہے جو وقت کو تیزی سے کھا جاتا ہے ۔وقت کی برکت کوختم کردیتاہے۔ اس میں گھنٹوں صرف ہوجاتے ہیں اور انسان کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اوسطا ً ایک انسان سوشل میڈیا پردن بھرمیں کم ازکم 2؍گھنٹہ 24منٹ صرف کرتاہے۔یہ محض ایک اندازہ ہے،بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق اس سے بھی زیادہ وقت صرف کیاجاتاہے۔اسی کواگربراعظموں کے اعتبارسے دیکھاجائے توشمالی امریکہ میں 2؍گھنٹہ6؍منٹ،جنوبی امریکہ میں 3؍گھنٹہ 24منٹ،افریقی ممالک میں 3؍گھنٹہ 10؍منٹ،یورپی ممالک میں سب سے کم 1؍گھنٹہ 15؍منٹ اورایشیائی براعظم میں 2؍گھنٹہ 16؍منٹ سوشل میڈیاپرایک انسان صرف کرتاہے۔ لہذا اس ماہ مبارک کو ہرگز سوشل میڈیا پر غیر ضروری کاموں میں صرف نہ کریں اور اپنے وقت کو عبادات کے لیے مختص کریں ۔

کہتے ہیں کامیاب انسان وہی ہے ’’جس کا آج اس کے کل سے بہتر ہو ‘‘ لہذا اپنے اس رمضان کو بہتر سے بہترین بنانے کی کوشش کریں۔ اللہ رب العالمین ہم تمام کو اس ماہ مبارک تک پہنچادے اور اس کی برکتوں سے مستفیض ہونے کا موقع دے ۔آمین یا رب العالمین