راہول گاندھی کے استعفیٰ پر بولی پرینکاگاندھی’آپ نے جو کیاہے اس کے لئے ہمت کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے‘

0 7

راہول گاندھی کے استعفیٰ پر بولی پرینکاگاندھی’آپ نے جو کیاہے اس کے لئے ہمت کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے‘

راہول گاندھی نے چہارشنبہ کے روو کہاتھا کہ میں اب پارٹی صدر نہیں ہوں‘ میں نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ پارٹی کو ایک مہینہ پہلا ہی اپنے صدر کا انتخاب کرلینا چاہئے۔

نئی دہلی۔ راہول گاندھی نے چہارشنبہ کے دوبارہ اپنی بات دہراتے ہوئے کہاکہ تھا کہ کانگریس کو اپنا نیا صدر چن لینا چاہئے۔

میں اب پارٹی کا صدر نہیں ہوں‘ میں نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ پارٹی کو ایک مہینہ پہلے ہی اپناصدر چن لینا چاہئے تھا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک کھلا خط بھی لکھا ہے‘ جس میں انہوں نے کہا ہے ’کانگریس پارٹی کے لئے کام کرنا میرے لئے اعزاز کی بات تھی‘۔

سال2019کے لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کو ملی ہارکا ذکر کرتے ہوئے لکھا’صدر کی ناطے ہار کے لئے میں ذمہ دار ہوں۔ اس لئے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے رہاہوں‘۔

جمعرات کو کانگریس کی جنرل سکریٹری اور راہول گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی نے ان کے استعفیٰ کے اقدام کی تعریف کی۔

پرینکا گاندھی نے کہاکہ ’راہول گاندھی اپنے جو کیا ہے‘ اس کی ہمت بہت ہی کم لوگوں میں ہوتی ہے۔ آپ کے فیصلے کا احترام کرتی ہوں‘۔

راہول گاندھی نے اپنے لیٹر میں لکھا کہ ’اس پارٹی کی خدمت کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے جس کے اصولوں اور نظریات نے زندگی کو استحکام کی شکل میں ہمارے خوبصورت ملک کی سیوا کی ہے۔

سال2019کے لوک سبھا الیکشن میں پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صدرکی حیثیت سے شکست کا میں ذمہ دار ہوں۔ میں نے ’مستقبل کی بہتری کے لئے یہ قدم اٹھایاہے۔

پارٹی نئے صدر کے انتخاب کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے۔

ان کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس عمل(نئے صدر کا انتخاب) میں وہ شامل ہوں۔ساتھ میں راہول گاندھی نے یہ بھی کہاکہ ”میری لڑائی محض سیاسی اقتدار کے لئے کبھی نہیں رہی ہے۔

بی جے پی کے متعلق ان کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے‘ لیکن میرے رگ رگ میں ہندوستان کی سونچ ہے۔

انہو ں نے آر ایس ایس پر بھی نشانہ لگایا‘ راہول گاندھی نے اپنے لیٹر میں کہا ’ہمارے ملک کے اداروں پر قبضہ کرنے کی آر ایس ایس کا منصوبہ کامیاب ہوگیاہے۔ ہماری جمہوریت بنیادی طور پر کمزور ہوگئی ہے۔

ملک اور دستور پر حملے ہورہے ہیں۔ ملک کا تانا بانا متاثر کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ الیکشن کے لئے اداروں کی غیرجانبداری ضروری ہے۔

ہمارا دستور کمزور ہوچکا ہے‘۔راہول گاندھی کے استعفیٰ دینے کے بعد پارٹی کے نئے صدر کے انتخاب کو لے کر بات چیت کا دور شرو ع ہوگیاہے۔

کانگریس کے کئی بڑے قائدین کے نام فہرست میں شامل ہیں۔ جس میں سشیل کمار شنڈے کانام کافی اہم ہے۔ حالانکہ کانگریس میں ناموں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

من موہن سنگھ‘ اے کے ٹنڈن‘ موتی لال وہرا‘ کرن سنگھ‘ ملک ارجن کھڑگے‘ احمد پٹیل‘ امبکا سونی‘ غلام نبی آزاد‘ ترون گوگوئی‘ ویراپا موئیلی‘ اومین چنڈی اور میرا کمارا جیسے کئی اہم قائدین کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔

 

Read More – یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے ادارہ میں اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سیاست ڈاٹ کام-