غازی آباد۔بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) ترجمان راکیش ٹکیٹ نے منگل کے روز مذکورہ کسانو ں کو انتباہ دیاکہ جب تک حکومت نئے زراعی قوانین سے دستبرداری اختیار نہیں کرتے احتجاج ختم نہیں کیاجائے گا اور ہوسکتا ہے کہ یہ اکٹوبر تک جاری رہے۔

غازی پور سرحد پر ایک ریالی سے خطاب کے دوران ٹکیٹ نے کہاکہ ”ہمارا نعرہ’قانون واپس نہیں تو گھر واپسی نہیں‘۔ یہ احتجاج اکٹوبر سے قبل ختم نہیں ہوگا۔ یہ جلد ختم نہیں ہوگا“۔

دہلی کی سرحدوں پر باڑ کھڑی کرنے اور سکیورٹی جوانوں کی بھاری تعداد میں تنصیب پر ردعمل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ”حکومت کی کسانوں کو روکنے کے یہ حکمت عملی الٹا ان کے لئے پریشانی کا سبب بن رہی ہے کیونکہ مختلف مقامات پر کسانوں کو روکنے کی وجہہ سے کئی مقامات پرعام لوگوں کو مشکلات پید ا ہورہی ہیں۔

میں آپ تمام پر زوردے رہاہوں کہ اکٹوبر/نومبر تک اس تحریک کو لے جانے کے لئے تیار رہیں۔ حکومت کو جتنا چاہے باڑی کھڑی کرلینے دیں“۔

لال قلعہ پر جھنڈ الگانے والے نوجوانوں کو انتظامیہ نے خود راستہ دیاہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”پنجابی کمیونٹی کی شبہہ کو خراب کرنے اور کسانوں کی شبہہ کو مخالف قوم کے طور پر پیش کرنے کے لئے یہ تمام چیزیں کی گئی تھیں“۔

غازی پور‘ سنگھو‘ تکری سرحدوں پر چوکسی میں اضافہ کردیاگیاہے کہ کیونکہ پچھلے دو تین دنوں میں بھاری تعداد میں مختلف مقامات سے کسان یہاں پر پہنچے ہیں۔

پولیس نے اکشر دھام کے قریب سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کریں اور قومی شاہراہ24پر غازی بعد دہلی کے درمیان گاڑیوں کی حمل ونقل کو محدو د کردیاگیاہے۔

مرکزی حکومت کے تین نئے زراعی قوانین کے خلاف قومی درالحکومت کی مختلف سرحدوں پر26نومبر سے کسان احتجاج کررہے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں