باغپت: دہلی کی سرحدوں پر تین نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہرے اب مغربی اتر پردیش میں بھی پھیلتے دکھ رہے ہیں، جہاں اتوار کے روز باغپت میں منعقدہ مہا پنچایت میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اس علاقے میں تین دن کے اندر یہ تیسرا ایسا واقعہ تھا۔ یہاں کے تحصیل گراؤنڈز پر ہونے والی ‘سرو کھاپ پنچایت’ میں آس پاس کے اضلاع سے ٹریکٹر ٹرالی بھر کر کسان بڑی تعداد میں پہنچے۔

بہت سارے ٹریکٹروں پر ، تیز آواز میں میوزک چل رہا تھا اور کئیوں پر ترنگا کے ساتھ کسانوں یونینوںکا جھنڈا بھی لگایا گیا تھا۔ جمعہ کے روز مظفر نگر اور ہفتے کو متھرا کے بعد اس خطے میں کسانوں کی یہ تیسری مہا پنچایت تھی۔

مظفر نگر اور متھرا میں منعقدہ مہا پنچایت نے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف غازی پور بارڈر پر بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو)کے زیرقیادت احتجاج کی حمایت کا اظہار کیا۔ بھاکیو نیتا راجندر چودھری نے یہاں موجود لوگوں سے کہا کہ آندولن پوری طاقت کے ساتھ جاری رہنا چاہئے۔ اس پروگرام میں شریک ہوئے بڑوت کے ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ مہا پنچایت میں 26 جنوری کو ضلع باغپت میں زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کے خلاف پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اتوار کو سرو کھاپ مہا پنچایت میں پہنچنے والے نامور علاقائی کسان قائدین میں دیش کھاپ کے چودھری سریندر سنگھ اور چوبیس کھاپ کے چودھری سبھاش سنگھ شامل تھے۔ اس کے علاوہ اجت سنگھ کی سربراہی والے راشٹریہ لوک دل(آر ایل ڈی)کے حامی بھی مہا پنچایت میں موجود تھے۔ ایک مقامی رہنما نے اسٹیج سے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بے شک دہلی میں پولیس اہلکاروں نے کسانوں کو ڈنڈے مارے ہوں ، لیکن ہم پھر بھی جئے جوان جئے کسان بولتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو، ہم ا سکا جواب اہنسا (عدم تشدد )سے دیں گے ۔ احتجاج کرنے والے مقام پر ہمارے نیتا اور ہمارے پنچ (پنچایت کے رہنما)فیصلہ کریں گے اور ہم اس پر عمل کریں گے۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر پریڈ کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد کے بعد ، ایسا لگ رہا تھا کہ کسانوں کی تحریک ٹھنڈی ہوجائے گی لیکن بی کے یو کے رہنما راکیش ٹکیت کی جذباتی اپیل نے اس میں ایک نئی جن پھونک دی اور غازی پور میں احتجاجی مقام پر ہزاروں کی تعداد میں کسان جمع ہوئے اور مغربی اتر پردیش ہونے والے مہاپنچایتوں میں کسانوں کی کافی بھیڑ جمع ہورہی ہے