۔ایک ہفتے گزرجانے کے باوجود بیشترگھروںمیں قفل لٹکے ہوئے ہیں
کلکتہ 29مارچ (یواین آئی) بیر بھوم ضلع کے رام پور ہاٹ کے بوگتوئی پورقتل عام کو ایک ہفتے کا زاید کا وقت گزرجانے کے باوجودگائوں میں ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول ہے۔سی بی آئی اور ریاستی پولس افسران کے ذریعہ کیمپ لگائے جانے کے باوجود گائوں کے مشرقی محلہ جہاں 40سے 50مکانات ہیں وہاں کوئی بھی نظر نہیں آرہا ہے۔بیشتر مکانات میں تالے بند ہیں ۔جن مکانات میں آگ لگادئیے گئے ہیں وہاں پر پولس ویڈیو گرافی کے ذریعہ نگرانی کررہی ہے۔خیال رہے کہ کلکتہ ہائی کورڈ کی ہدایت کے بعد سی بی آئی نے جانچ کی کارروائی شروع کردی ہے۔نصف درجن افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔کئی سینئر لیڈروں سے پوچھ تاچھ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔کہا جارہا ہے کہ اس معاملے کے کلیدی ملزم انارالحسین نے ترنمو ل کانگریس کے پنچایت ڈپٹی چیف بھادو شیخ کے قتل کے بعد اور گائوں میں گھروں میں آگ لگائے جانے کے واقعات سے قبل اور بعد میں بھی ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈروں سے بات کی تھی۔

رام پور ہاٹ شہر سے محض دو سے تین کلومیٹر کی دوری پر واقع بوگتوئی پور گائوںمیں 90فیصد مسلم آبادی ہے۔گرچہ حکومتی اسکیم کی وجہ سے بیشتر مکانات پختہ بن چکے ہیں مگر تعلیم کے فقدان کی وجہ سے یہاں کی آبادی سماجی و معاشرتی کے اعتبار سے پسماندگی کے شکار ہے۔5ہزار کے قریب آبادی میں محض چند نوجوان ہی گریجوٹ تک کی تعلیم حاصل کی ہے۔گائوں میں محض ایک پرائمری اسکول واقع ہے جہاں صرف 40سے50بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔جب کہ جن کی مالت مستحکم ہے وہ اپنے بچوں کو رام پورہاٹ سب ڈویژن میں واقع پرائیوٹ اسکولوں میں بھیجتے ہیں ۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت مغربی بنگال کے جنرل سیکریٹری حاجی عبدا لعزیز اور جوائنٹ سیکریٹری پر مشتمل وفد کے ساتھ جب ہم کلکتہ سے پانچ گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعدبوگتوئی پور گائوں پہنچے تواس کے محض چند منٹوں کے گائوں کی جانچ مسجد سے اس واقعے کے ایک اور متاثرہ ناظمہ خاتون کے کلکتہ کے ایس ایس کے ایم اسپتال میں موت کی خبرکا اعلان کیا جارہا تھا۔مسجد کے باہر چند لوگ جمع ہوکر اس پر باتیں کررہے تھے مگر جب ہم نے اس پر تفصیل جاننے کی کوشش کی تو تمام افراد خاموش ہوگئے۔دوسری جانب اس واقعے میں مرنے والے افراد کے گھروں سے محض چند قدم کی دوری پر قبرستان میں ناظمہ خاتون کی تدفین کی تیاری ہورہی تھی ۔گورگن نے اس واقعہ میں مرنے والے دیگر 8افراد کی قبر میں بھی دیکھا ئی مگر وہ اس معاملے میں کچھ بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

بوگتوئی پور گائوں کی سماجی و تعلیمی صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں بیشتر افراد کے نام غیر اسلامی ہیں اور ان کے نام کے آخیر شیخ کا لاحقہ ہٹادیا جائے تو فرق کرنا مشکل ہوجائے گا۔کافی تلاش کے بعد گائوں کے دوسرے محلے میں ایک تعلیم یافتہ نوجوان رحمت شیخ سے ان کے کیرانہ کی دوکان پر ملاقات ہوگئی ۔رحمت شیخ نے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی ہے مگر وہ اپنے والد کے ساتھ کیرانہ کی دوکان چلاتے ہیں۔رحمت شیخ نے بتایا کہ گائوں کے جس محلے میں یہ واقعہ ہوا ہے وہاں تشدد اور مارپیٹ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ایک سال قبل ہی پنچایت ڈپٹی چیف بادھوشیخ کے بھائی کا گولی مارکر قتل کردیا گیا تھا۔اور چند سال قبل اسی محلے میں کانگریس کے پنچایت ممبر کا قتل کردیا گیا تھا اور ان کے گھروالوں کو گائوں چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔
آخر گائوں والے ایک دوسرے کے دشمن کیوں ہے؟ کیا اس کے پیچھے سیاسی لیڈروں کا ہاتھ ہے؟ قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ کب رکے گا۔رحمت شیخ بتاتے ہیں کہ یہ علاقے کوئلہ، پتھر اور غیر قانونی مائننگ کیلئے مشہور ہے۔بادو شیخ نے محض چند سالوں میں کروڑوں کے مالک بن گئے تھے۔یہ علاقے مغربی بنگال کے مرکزی علاقے میں واقعے ہے۔شمالی بنگال اور جنوبی بنگال کو یہ علاقہ جوڑتا ہے۔شمالی بنگال سے جنوبی بنگال اور جنوبی بنگال سے شمالی بنگال آمد و رفت کیلئے یہاں سے گزرنا ضروری ہے۔غیر قانونی وصولی ،غیر قانونی کان کنی اور دیگر تمام ناجائز کام اس علاقے میں ہوتے ہیں۔رحمت شیخ کے مطابق دراصل یہ قتل و غارت گری اس دھندے کو لے کر ہے۔اس لئے اس کو سیاست نہیں جوڑنا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ ان غیر قانونی دھندے میں شامل افراد سیاسی اور پولس کی ملی جلی بھگت سے اس کو انجام دیتے ہو۔

بیر بھوم ضلع میں ترنمول کانگریس کے ایک سینئر مسلم لیڈر جو بولپور میں ترنمول کانگریس کے ضلع صدر انوبرتا منڈل کے ساتھ میٹنگ کرنے کے بعد ملاقات کے دوران اس پورے واقعے سے متعلق کھل کر بات کی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ غنڈے و موالی کی پارٹی کی ضرورت ہے مگر ان غنڈوں اور موالی کو ٹکٹ دے کر پنچایت ممبر بنانا یہ پارٹی کی بھول ہے اور ہم نے یہ بات پارٹی قیادت کے سامنے رکھی ہے۔ترنمول کانگریس کے مسلم لیڈر نے بتایا کہ ممکن ہے کہ بادو شیخ اور اس کے بعد گائوں میںا ٓتشزدگی اور اس کے بعد بہیمانہ انداز میں خواتین اور بچوں کو آگ میں جھونکنے کے پیچھے ایک ہی شخص کا ہاتھ ہو۔گرچہ انہوں نے صاف صاف نہیںبتایا ۔یہ کون ہوسکتے ہیں ؟۔تاہم انہوں نے اپنی اس تھیوری کے پیچھے کے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ جس وقت بادو شیخ کا قتل کیا گیا اس وقت ان کے ساتھ رہنے والے دس پندرہ افراد اچانک کیوں غائب ہوگئے تھے۔جس وقت بادو شیخ پر گولی اور بم سے حملہ کیا گیا اس کی زد میں کوئی اورکیوں نہیں آیا ۔انہوں نے کہا کہ بادو شیخ کے قتل کے پورے گائوں میں افرتفری مچ گئی اور محلے کے نوجوان اور بوڑھے افراد گھر چھوڑ کر بھاگنے لگے مگر اچانک بھیڑ کہاں سے آگئی جوگھرو ں میں آگ لگانے لگی ۔خیال رہے کہ جہاں پر آتشزدگی کا واقعہ ہوا ہے وہاں سے محض 7سے8منٹ کی مسافت پر پولس اسٹیشن ہے۔اس کے باوجود پولس عملہ کو پہنچنے میں ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے پہنچا۔اب سی بی آئی تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اوردیگر افسران سے تاخیر کی وجہ معلوم کررہی ہے۔
بیر بھوم میں سیاسی تشدد کے واقعات کوئے نئے نہیں ہے۔مگر بیشتر تشدد کے واقعات میں مرنے والے اور مارنے والے اور پھر گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق مسلم طبقے سے کیوں ہوتا ہے۔اس سوال کا جواب ایک بنگلہ نیوز چینل کیلئے گزشتہ دس سالوں سے بیربھوم ضلع سے رپورٹنگ کرنے والے صحافتی بتاتے ہیں کہ مسلم طبقے کا تعلیم سے بے تعلقی اور ان کی بے روزگاری نے سیاست دانوں کیلئے ان کو جرائم میں ڈھکیلنا آسان ہوجاتا ہے۔وہ اشارے میں کہتے ہیں کہ غیر قانونی سرگرمیوں اور وصولی کے پیسے اوپر سے نیچے تک جاتے ہیں مگر اس کیلئے مارنے والے اورمارنے سب کے سب مسلم طبقے سے ہوتا ہے۔ٹی وی صحافی گزشتہ ایک ہفتے سے بوگتوئی گائوں میں رہ کر رپورٹنگ کررہے ہیں۔مسلم مجلس مشاورت کے قائد عبدالعزیز بتاتے ہیں کہ گائوں والوں سے ملاقات کرنے کے بعد انداز ہوتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ جہالت ہے اور یہ مسلم تنظیموں اور علما کی ناکامی کا ثبوت ہے۔