بھوپال: مدھیہ پردیش کے کھرگون ضلع میں نکل رہے رام نومی کے جلوس کے دوران ڈی جے پی بجائے جانے کے سبب پیدا ہونے والا تنازعہ پر تشدد ہو گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق جلوس مسلم بستی سے نکل رہا تھا اور تیز آواز میں ڈی جے بجایا جا رہا تھا جس پر بستی والوں نے اعتراض کیا۔ دریں اثنا، جلوس پر مبینہ طور پر پتھراؤ ہوا اور دو فریقوں میں مار پیٹ اور پتھربازی شروع ہو گئی۔

دونوں گروپوں میں تشدد اس حد تک بڑھا کہ موقع پر بھگدڑ مچ گئی اور آگزنی بھی کی جانے لگی۔ پولیس کو حالت کو قابو میں کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغنے پرے۔ انتظامیہ نے اس کے بعد لوگوں کو ہدایت دی کہ وہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں۔

ضلع مجسٹریٹ انوگرہ پی نے بتایا کہ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ جب تک انتہائی ضروری نہ ہو وہ گھروں کے اندر ہی رہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا کرفیو نافذ کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھروں میں ہی رہنے کو کہا گیا ہے اور ضروری خدمات کو چھوڑ کر تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ایک دیگر سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ پتھراؤ کے بعد پرتشدد جھڑپ کے دوران لوگوں کو قابو میں کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کرنا پڑا اور کچھ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پتھراؤ میں پولیس جوان سمیت مجموعی طور پر چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔