ہندوؤں کے بھگوان رام کے جنم دن کی مناسبت سے منائے جانے والے تہوار رام نومی کے موقع پر اتوار 10 اپریل کو جلوسوں کے دوران چار ریاستوں گجرات، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے۔ ان میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے،جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ گجرات میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ تصادم کے دوران درجنوں گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

دوسری طرف قومی دارالحکومت دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں رام نومی کے ‘متبرک موقع‘ پر گوشت کھانے کے تنازعے پر دائیں اور بائیں بازو کے طلبہ میں جھڑپ ہوگئی جس میں ایک درجن سے زیادہ طلبہ زخمی ہوئے۔

گجرات میں تصادم

وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے کھمبات اور ہمت نگر شہروں میں تصادم کے مختلف واقعات پیش آئے۔ ہمت نگر میں تصادم اس وقت شروع ہوا جب جلوس مسلم اکثریتی علاقے میں داخل ہوا اور اس موقع پر تیز آواز میں گانے بجائے گئے۔ قابل اعتراض نعرے لگانے کی بھی خبریں ہیں۔

اسی طرح ریاست مدھیہ پردیش کے کھرگون اور دیگر قصبات میں تصادم کے واقعات پیش آئے۔ اطلاعات کے مطابق دہلی فسادات کے ملزم، بی جے پی لیڈر، کپل مشرا بھی کھرگون میں رام نومی کے جلوس میں شامل تھے۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلٰی دگ وجے سنگھ نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا، ”جہاں جہاں مشرا کے قدم پڑتے ہیں وہاں فسادات ہو جاتے ہیں۔‘‘

جھارکھنڈ کے لوہردگا ضلع میں بھی رام نومی کے جلوس کے دوران تصادم میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوگئے جن میں تین کی حالت نازک ہے۔

مغربی بنگال میں ہوڑہ کے شب پور علاقے میں رام نومی کے جلوس کے دوران تصاد م کے واقعات پیش آئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور صورت حال کنٹرول میں ہے۔ اس ریاست میں اپوزیشن بی جے پی نے پولیس پر جلوس میں شامل افراد پر حملہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تصادم

بھارت دارالحکومت نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں رام نومی کے دن نان ویج یا گوشت والے کھانے دیے جانے پر اسٹوڈنٹس یونین جے این ایس یو اور بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے درمیان تنازعہ ہوگیاجس نے تشدد کی شکل اختیار کرلی۔ دونوں طرف سے مار پیٹ میں کم از کم 16طلبہ زخمی ہوگئے۔

اے بی وی پی کا کہنا تھا کہ رام نومی کے متبرک موقع پر نان ویج کھانا پیش کیا جانا بھگوان رام کی توہین کے مترادف ہے۔ دہلی پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کرلیا ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

تشدد میں تمام ہندو شامل نہیں

معروف سماجی کارکن اور دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر اپوروانند کا کہنا تھا کہ ہندو تہواروں کے موقع پر ہونے والے تشدد میں تمام ہندو شامل نہیں ہیں لیکن یہ ہندوؤں اور ہندو دھرم کے نام پرکیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ہندوؤں سے سوال کیا کہ کیا اس سے انہیں سکون مل رہا ہے کہ ان کے تہوار کے نام پر دوسروں کو تکلیف پہنچائی جائے۔ اور اگر نہیں تو کیا وہ ایسا کرنے والوں کو روک نہیں سکتے؟ اپوروانندکا کہنا تھا کہ تہواروں کے مبارک موقع پر تشدد کے واقعات پر خاموشی اختیار کیے رہنا بھی ‘پاپ‘ ہے۔|