رام مندر کی تعمیر کیلئے تیار ’’ستون‘‘ کیلئے مٹی ساتھ نہیں دے رہی ہے‘ٹرسٹ کے ذمہ داران پریشان

ایوھیا :(ایجنسیز)ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے جب سبھی قانونی پیچیدگیاں ختم ہو گئی ہیں، اور پی ایم مودی کے ذریعہ کئی مہینے قبل سنگ بنیاد بھی رکھا جا چکا ہے، تو اب کچھ دوسرے ایسے مسائل سامنے آ گئے ہیں جس کی وجہ سے تعمیری کام ہنوز شروع نہیں ہو سکا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق رام مندر تعمیر کے لیے جہاں ستون کھڑے کرنے کا منصوبہ تھا، وہاں کی مٹی اس لائق نہیں ہے کہ کامیابی مل سکے۔ گویا کہ رام مندر تعمیر میں وہاں کی مٹی اور زمین رخنہ انداز ہو گئی ہے۔

 

5 اگست 2020 کو رام مندر کے لیے پی ایم مودی نے سنگ بنیاد رکھا تھا، اور اب پانچ مہینے گزر جانے کے باوجود مندر کی بنیاد ڈالنے یعنی ستون کھڑا کرنے کا کام نہیں ہو سکا ہے۔ رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے اس تعلق سے بتایا ہے کہ کچھ تکنیکی مسائل ہیں جس کی وجہ سے کام آگے نہیں بڑھ پایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ستون کھڑا کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ جہاں مندر بنانا ہے وہاں زمین بھربھری ہے اور کافی گہرائی تک وہاں ملبہ ہے۔‘‘

چمپت رائے نے گزشتہ دنوں خبر رساں ادارہ ’اے این آئی‘ سے بھی اس بارے میں تذکرہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’جس دن مندر بننا شروع ہو جائے گا، ہم 36 سے 39 مہینوں میں اسے پورا کر دیں گے۔ ہم سوچتے تھے کہ جون میں ہی مندر بننا شروع ہو جائے گا لیکن 7 مہینے سے اسٹڈی کا کام ہی مکمل نہیں ہو رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’زمین کے نیچے بھربھری بالو ہے یا گہرائی تک کوئی ملبہ بھرا پڑا ہے۔ اس لیے ایسا فاؤنڈیشن ہو جو وزن کو صدیوں تک سنبھال سکے۔ اسی کو دھیان میں رکھتے ہوئے کام کیا جا رہا ہے۔‘‘

 

موصولہ اطلاعات کے مطابق ستون (پلرس) پر رام مندر تعمیر کا ٹیسٹ ناکام ہونے کے بعد اب نیا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ فیصلہ لیا گیا ہے کہ شری رام جنم بھومی احاطہ میں رام مندر تعمیر کے لیے اب ستون نہیں بنیں گے۔ نئے منصوبہ کے مطابق جگہ جگہ کھدائی کر پتھروں سے بنیاد تیار کیے جانے پر اتفاق قائم ہوا ہے، لیکن ستون کی ہی طرح پہلے پتھروں کی بنیاد بنا کر اس کی بھی جانچ کی جائے گی۔ جانچ میں مثبت نتائج برآمد ہونے کے بعد ہی مندر تعمیر کا کام شروع ہو پائے گا۔