حیدرآباد: ہناکونڈا میں گزشتہ روز بی جے پی کے کچھ کارکنوں نے ٹی آر ایس ایم ایل اے چھیلا دھرم ریڈی کے گھر پر حملہ کیا۔ پولیس نے بتایا کہ بی جے پی کے کچھ رہنماؤں اور کارکنوں نے تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس) کے ایم ایل اے پر پتھروں اور انڈوں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں ورنگل شہری اور ورنگل دیہی اضلاع کے بی جے پی قائدین اور کارکن مبینہ طور پر شامل تھے۔ حملہ آوروں نے کھڑکی کے شیشے توڑ دیئے اور فرنیچر کو کافی نقصان پہنچایا۔ خبر ملنے پر پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا۔ اسسٹنٹ کمشنر پولیس جتیندر ریڈی نے بتایا کہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں کر لیا گیا۔

ٹی آر ایس ایم ایل اے چھیلا دھرم ریڈی کے گھر کے سامنے منعقدہ احتجاج کے دوران بی جے پی مظاہرین نے ‘جے شری رام’ کے نعرے لگاتے ہوئے پتھراؤ کرنا شروع کردیا۔ خبر ملنے کے بعد پنچایت راج کے وزیر ای دیا شنکر راؤ دھرم ریڈی کے گھر پہنچے اور اس واقعہ کے بارے میں دریافت کیا۔

پارکل سے ایم ایل اے دھرم ریڈی نے تین دن پہلے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں سے سوال کیا تھا کہ جب بھدرا چلم میں رام للام تھا تو تلنگانہ کے لوگوں کو ایودھیا کے مندر میں کیوں چندہ دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھدراچلام میں ہمارے پاس بھگوان رام ہیں۔ ہمیں اس رام کی کیا ضرورت ہے؟” دھرم ریڈی کے ذریعہ کیے گئے اس تبصرے پر بی جے پی کارکنان نے تنازعہ کھڑا کر دیا۔ ٹی آر ایس کے ممبران اسمبلی نے کہا، بھگوان ہر ایک کے لئے ہے، صرف آپ کے لئے نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی رہنما اس معاملے پر سیاست کر رہے ہیں۔

اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دھرما ریڈی نے اپنے تبصرہ کا دوبارہ ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ رام مندر کے لئے موصول ہونے والے عطیات کے بارے میں کیوں کوئی حساب نہیں رکھا جا رہا ہے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی رام مندر پر پچھلے کچھ دنوں سے ایک دوسرے پر حملہ کرنے میں مصروف ہیں۔

ٹی آر ایس کے ایک اور ایم ایل اے ودیا ساگر راؤ نے بی جے پی رہنماؤں کے ذریعہ شروع کی گئی رام مندر کے لئے چندا مہم کے لئے کھینچائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے ہر گاؤں میں رام مندر ہیں۔” وہ لوگ ایک نیا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ ہر کوئی بھگوان رام سے عقیدت رکھتا ہیں۔ ہمیں ایودھیا میں رام مندر کی ضرورت کیوں ہے۔”

(آئی اے این ایس)