ایودھیا میں رام مندر تعمیر کے لیے چندہ وصولی کی مہم 15 جنوری سے شروع ہونے جا رہی ہے۔ حالانکہ کئی ریاستوں میں پہلے سے ہی چندہ وصولی مہم مختلف ہندو تنظیموں کے ذریعہ شروع کیے جانے کی خبریں سامنے آ چکی ہیں، لیکن شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے 15 جنوری 2021 سے 27 فروری 2021 تک چندہ وصول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ مہینے چلنے والی اس مہم میں 13 کروڑ کنبہ تک پہنچنے کا ہدف وی ایچ پی نے تیار کیا ہے۔

چندہ وصولی کی اس مہم کو ’شری رام مندر سنگرہ ندھی ابھیان‘ (رام مندر فنڈ جمع کرنے کی مہم) نام دیا گیا ہے۔ وی ایچ پی نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ کر رام مندر تعمیر کے لیے ان کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ عظیم الشان رام مندر جب بن کر تیار ہو جائے تو ہر ہندوستانی جذباتی طور پر خود کو اس سے جوڑ کر دیکھ سکے۔

مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وی ایچ پی اور شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ سے جڑے لوگ ملک بھر کے 5 لاکھ 50 ہزار گاؤں تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ اس دوران 13 کروڑ کنبہ کے تقریباً 65 کروڑ لوگوں سے وہ ملاقات کریں گے۔ گویا کہ یہ مان کر چلا جا رہا ہے کہ ایک کنبہ میں 5 افراد ہوں گے اور ان سے ان کی خواہش کے مطابق ہی چندہ لیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ رام مندر تعمیر کرنے کے لیے فنڈ جمع کرنے کی اس مہم کے تحت پہلے ہی 10 روپے، 100 روپے اور 1000 روپے کی پرچیاں بڑی تعداد میں شائع ہو چکی ہیں۔ جتنے پیسے بطور عطیہ دیے جائیں گے، اس کے مطابق پرچیاں تعاون کنندہ کے حوالے کی جائیں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان پرچیوں پر ایودھیا میں تعمیر ہونے والے رام مندر کی تصویر کے ساتھ ہی شری رام کی شبیہ بھی پرنٹ کی ہوئی ہوگی۔ غور طلب ہے کہ جو لوگ 2000 روپے سے زیادہ کا تعاون پیش کریں گے، انھیں ایک مختلف طرح کی رسید پیش کی جائے گی جو کہ انکم ٹیکس چھوٹ کا فائدہ اٹھانے میں استعمال کی جا سکے گی۔

ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر وشو ہندو پریشد کے قومی کارگزار سربراہ آلوک کمار کے حوالے سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے رام مندر تعمیر کے تعلق سے کہا ہے کہ ’’رام مندر تعمیر کے لیے فنڈ جمع کرنے کی شروعات صدر جمہوریہ سے کی جائے گی جو کہ ملک کے پہلے شہری مانے جاتے ہیں۔ ان کے بعد نائب صدر سے بھی ملاقات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت ملک کے وزیر اعظم سے لے کر دور دراز علاقے کے گاؤں تک پہنچنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔‘‘

BiP Urdu News Groups