راجستھان کے جامعہ اسلامیہ دار العلوم محمدیہ میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھائیسواں فقہی سمینار کا آغاز

0 105

’’اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے علماء کو نئے مسائل میں ملت اسلامیہ کی رہنمائی کرنی چاہئے‘‘

میل کھیڑلا، ضلع بھرت پور ( راجستھان )۔ اس وقت دنیا میں جس طرح نت نئے مسائل جس رفتار سے سامنے آرہے ہیں خاص طور پر اقتصادیات کے میدان میں جس تیزی سے ترقی ہورہی ہے ، اس کے پیش نظر علماء کی بڑی ذمہ داری ہے کہ ملت اسلامیہ کی شرعی رہنمائی کریں اور ضرورت پڑی تو اجتہاد سے کام لیں۔ ان اخیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اور ناظم ندوۃ العلماء مولانا محمد رابع حسنی ندوی نے اسلامک فقہ اکیڈمی کے ۲۸ ویں فقہی سمینار کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ یہ سہ روزہ سمینار آج یہاں جامعہ اسلامیہ دار العلوم محمدیہ کے وسیع و عرض کیمپس میں شروع ہوا جس میں ملک کے طول و عرض کے علاوہ بیرون ہند سے تین سو سے زائد جید اور مؤقر نوجوان علماء و فقہاء شرکت کر رہے ہیں جس میں چار اہم موضوعات پر غور و فکر ہوگا۔مولانا رابع حسنی ندوی نے جو بعض اعذار اور علالت کے سبب شرکت نہ کرسکے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ وہ ابتداء سے ہی فقہ اکیڈمی کی علمی کاوشوں کے بڑے قدردان ہیں۔ اس وقت اکیڈمی جن موضوعات پر سمینار منعقد کر رہی ہے ان کے بارے میں علماء کی ایک رائے پر اتفاق سامنے نہیں آیا ہے، ان میں ایک موضوع مالی جرمانہ کا بھی ہے، آج یہ مسئلہ مختلف دائرہ کار میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور سماج پر اثر انداز ہونے والی بہت سی خرابیوں کے ازالہ کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جواہرات کی خرید و فروخت کی جو نئی شکلیں سامنے آرہی ہیں اس بارے میں حدود شرع کے دائرہ میں رہتے ہوئے امت کی رہنمائی کی جانی چاہئے، نیز موجودہ تجارتی اور مالیاتی اسکیموں میں موجود غیر شرعی بنیادوں کی بھی نشاندہی کی جانی چاہئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملت میں یہ اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ دین و شریعت میں مکمل رہنمائی کا سامان ہر دور اور ہر زمانے کے لیے موجود ہے، انھوں نے علماء پر نئے مسائل پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے، اس کی ضرورت پڑتی رہی ہے اور پڑتی رہے گی۔ اپنے کلیدی خطبہ میں ملت اسلامیہ میں بڑھتے ہوئے تہذیبی اور فکری ارتداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اس فتنہ کا سد باب کرنا، اس کے خلاف بند باندھنا علماء اور فقہاء کی ذمہ داری ہے۔ اس سلسلہ میں اکیڈمی کی کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا رحمانی نے کہا کہ اکیڈمی اب تک ۲۷ سمینار منعقد کرچکی ہے جس میں ۱۳۰ مسائل پر ۷۲۴ تجاویز پیش کی گئی اور ان سمیناروں میں تقریباً ۵۰۰۰ ہزار مقالے پیش کیے گئے اور ان مقالات کے ۱۳۰ مجموعے شائع ہوچکے ہیں، نیز اکیڈمی نے اب تک ۲۴۰ کتابیں بھی شائع کی ہے۔ مولانا خالد رحمانی نے کہا کہ عالم اسلام میں جتنی فقہ اکیڈمیاں ہیں ان میں ہندوستان کی اکیڈمی کو سب سے زیادہ سمینار کرنے اور سب سے زیادہ مسائل اور فیصلے کرنے کا امتیاز حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اکیڈمی کے سمیناروں میں ملک اور بیرون ملک کے جید علماء اور اسکالرس شرکت کرتے آئے ہیں جس سے اس کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اکیڈمی کے فیصلوں کو نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے عالم اسلام میں پذیرائی مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اکیڈمی کا ایک بڑا کارنامہ ’’الموسوعۃ الفقہیہ‘‘ کا ترجمہ ہے، نیز وہ اب خواتین کے حقوق پر ایک اہم کتاب ’’المفصل فی احکام المرأۃ‘‘ کا ترجمہ اردو میں شائع کرنے والی ہے جس کی آج کے ماحول سخت ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں پر فکری یلغار اور حملے صرف اس لیے کیے جارہے ہیں کہ لادینیت کے فلسفے کے مقابلہ میں صرف اسلام ہی ٹھہر سکتا ہے۔ اسلام چونکہ خالق کائنات کا بھیجا ہوا دین ہے اس لئے عمومی طور پر مسلمانوں پر مغرب کا یہ جادو چل نہیں پاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغرب نے مسلمانوں میں دو طبقوں کو اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کی ہے اور اسے ایک حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن مسلمان علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خلاف علمی اور فکری کاوشیں جاری رکھیں، اس فتنہ کا مقابلہ کرنے کے سلسلہ میں مولانا رحمانی نے کہا کہ علماء منبر و محراب سے عام اصلاحی باتوں کے ساتھ ساتھ فکری پہلو پر بھی خطاب کریں، جمعہ کے خطابات، سیرت اور اصلاح معاشرہ کے جلسوں میں بھی اس طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ ضرورت ہے کہ علماء مسلمہ طرز استدلال کے مطابق اسلام کو پیش کریں اور اسے اپنی کاوشوں کا موضوع بنائیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فتنہ کا سدباب نہیں کیا گیا تو خدانخواستہ وسط ایشیا اور مشرق یورپ کے بعض مسلم گروہ کا جیسا ہمارا حال ہوجائے گا۔ مولانا نے اس موقع پر میوات اور جامعہ اسلامہ دار العلوم محمدیہ میل کھیڑلا کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہاں پر دین کے لیے جو کام ہورہا ہے وہ بے مثال ہے۔ اس موقع پر انھوں نے مولانا سالم قاسمی کے ساتھ دیگر بڑی بڑی دینی شخصیات کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملت اسلامیہ کے لیے بڑا نقصان ہے۔ مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی نے بھی اپنی تقریر میں خبردار کیا کہ اس وقت ملک میں مشرکانہ نظام کو ترویج دینے کی کوششیں ہورہی ہیں جس سے مسلم امت بھی متاثر ہورہی ہے بالخصوص اسکول کے بچے اس کی زد میں ہیں، انھوں نے کہا کہ اگر اس کا سد باب نہیں کیا گیا اور کفر و شرک کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کیا گیا تو آنے والی نسلیں اسلام سے بے بہرہ ہوسکتی ہیں۔ اس سے قبل سمینار کے میزبان جامعہ اسلامیہ دار العلوم محمدیہ کے مہتمم مولانا محمد ارشد نے خطبہ استقبالیہ میں میوات کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہاں کس طرح مسلمانوں میں شرک اور بدعت کا غلبہ تھا لیکن آج یہ علاقہ دین کی روشنی سے منور ہو اٹھا ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ میوات میں پہلی مرتبہ دار القضاء کا قیام بھی عمل میں آرہا ہے۔ انھوں نے فقہ اکیڈمی کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اس نے جامعہ اور میوات کو ملک کے جید علماء اور فقہاء کرام کی میزبانی کا شرف بخشا۔ سمینار میں افغانستان، ایران، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور قطر سے اسلامک اسکالرس اور علماء شرکت کر رہے ہیں۔ اس موقع پر افغانستان کے مندوب مفتی عبد الحفیظ قرشی نے کہ ان کے ملک میں اہل دیوبند کا خاص احترام اور اثر ہے، انھوں نے کہا کہ افغانستان کی تاریخ دین سے محبت سے معمور ہے اور اس وقت بھی مختلف جہتوں میں کام ہورہا ہے۔ جنوبی افریقہ کے مندوب مولانا موسی عباس علی جینا نے بتایا کہ جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کو اقلیت میں ہونے کے باوجود مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہاں پر اسلام چند صدیوں پہلے انگریزوں کی بدولت پہنچا تھا جنہوں نے ہندوستان اور ملیشیا سے مسلمانوں کو یہاں لائے۔ قطر کے مہمان ڈاکٹر فضل بن عبد اللہ المراد نے قطر میں اور مسلم دنیا میں فقہ کے میدان میں ہورہے کاموں کا تذکرہ کیا اور فقہ اکیڈمی کی ستائش کی۔ اس موقع پر کئی کتابوں کا اجراء عمل میں آیاجن میں ہندوستان میں اسلامی معاشیات اور مالیہ: موانع اور مواقع، حیوانات کے حقوق اور ان کے احکام، عصری تعلیمی اداروں سے متعلق شرعی مسائل، مکانات کی خرید و فروخت، طلاق اور اس سے پیدا ہونے والے سماجی مسائل وغیرہ شامل ہیں۔ اس سمینار کے موضوعات میں مالی تعزیر -شریعت اسلامی کی روشنی میں ، ارکان شرعیہ پر جہل کا اثر، سائبر کرائم اور شرعی نقطۂ نظر، ہیرے جواہرات کی تجارت فقہ اسلامی کی روشنی میںوغیرہ شامل ہیں جن پر تین دن تک بحث و مباحثہ کے بعد تجاویز پاس کی جائے گی، نیز اس سمینار کے اختتام پر مسجد اقصی پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔ اس سے قبل اکیڈمی کے سکریٹری برائے علمی امور مولانا عتیق احمد بستوی نے اکیڈمی کا تعارف پیش کیا اور مولانا محمد عبید اللہ اسعدی سکریٹری برائے سمینار نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا 1989ء میں وجود میں آئی جس نے سمینا روں کے علاوہ ۳۳ تربیتی پروگرام اور ۴۰ توسیعی خطبات کا بھی اہتمام کیا ہے اور بیرون ملک کے علماء کو ایک نیٹ ورک میں لایا ہے۔