ہندوستان میں کورونا قہر کے درمیان کووڈ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔ کورونا متاثرین کی آخری رسومات میں سخت احتیاط برتی جا رہی ہے اور زیادہ لوگوں کو اس میں شمولیت سے باز رکھا جا رہا ہے۔ اس درمیان راجستھان کے سیکر ضلع کے ایک گاؤں میں ایک کووڈ متاثرہ خاتون کی لاش کو مبینہ طور پر دفنانے کے بعد تقریباً 21 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جس سے علاقے میں دہشت کا ماحول ہے۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق خاتون کی لاش کو بغیر کسی کووڈ پروٹوکول پر عمل کیے گجرات سے راجستھان کے سیکر لایا گیا تھا۔ راجستھان کانگریس چیف اور ریاست کے وزیر تعلیم گووند سنگھ ڈوٹاسرا کے اسمبلی حلقہ سیکر کے کھیورا گاؤں سے حال ہی میں اس واقعہ کی اطلاع ملی۔ افسران نے کہا کہ لاش گجرات سے لایا گیا تھا اور گاؤں میں آخری رسومات ادا کیے جانے کے بعد لاش کے رابطے میں آئے تقریباً 21 لوگوں کی جان چلی گئی۔

افسران کا کہنا ہے کہ کووڈ متاثرہ کا جسد خاکی 21 اپریل کو گاؤں لایا گیا تھا اور 100 سے زیادہ لوگ آخری رسومات میں شامل ہوئے تھے جو کووڈ ہدایات پر عمل کیے بغیر منعقد کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ لاش کو پلاسٹک کی تھیلی سے باہر نکالا گیا تھا اور کئی لوگوں نے اسے دفنانے کے دوران چھوا تھا۔ حالانکہ لکشمن گڑھ کے ایک افسر کلراج مینا نے کہا کہ 21 اموات میں سے صرف تین یا چار اموات ہی کووڈ-19 کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ مینا نے میڈیا کو بتایا کہ ’’دیگر اموات ضعیف طبقہ میں شامل لوگوں کی ہوئی ہیں۔ ہم نے یہ پتہ کرنے کے لیے کہ یہ کمیونٹی انفیکشن کا معاملہ ہے یا نہیں، ان 147 خاندانوں کے نمونے جمع کیے ہیں جہاں اموات ہوئی ہیں۔‘‘

مینا اور دیگر افسران نے ایک میڈیکل ٹیم کے ساتھ رپورٹ حاصل کرنے کے بعد گاؤں کا دورہ کیا جس میں گاؤں کی فوری صاف صفائی کی ہدایت دی گئی تھی۔ دیگر متاثرہ لوگوں کو ٹھیک کرنے کے لیے میڈیسین کٹ بھی تقسیم کیے گئے۔ سیکر ضلع کلکٹر اویرل چترویدی نے کہا کہ افسران نے گاؤں کا دورہ کیا اور لوگوں کو اس بات سے مطلع کرایا کہ آخری رسومات کے لیے اور سبھی سماجی تقاریب کے دوران مناسب کووڈ پروٹوکول پر عمل کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ حقیقی صورت حال جاننے کے لیے ڈور ٹو ڈور سروے بھی کیا گیا تھا۔